بیچاری عوام کو طفل تسلیاں ہیں، نا جانے کون سا وقت ہو گا جب سکھ کے لمحے ملیں گے، ہم جھوٹ نہیں چھوڑتے دوہرے کردار کے فرد ہیں

تضادات اور مفادات کا سماج

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 462
ہم مجموعی طور پر تضادات اور مفادات سے لتھڑا سماج ہیں۔ قیام پاکستان سے ہی ہم خطرے کا شکار رہے ہیں اور اب نئی بات یہ ہے کہ ہم دیوالیہ ہونے والے ہیں۔ ہم ہمیشہ اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہے ہیں، ہیں اور رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بھارتی گولہ باری سے نقصان کی تفصیلات سامنے آ گئیں

عوام کی حالت

دوسری طرف گٹھ جوڑ اور اللے تللے ہیں کہ بس خدا کی پناہ۔ عیاشی کی کہانیاں شرمندگی کی انتہا ہیں۔ عوام کے لیے طفل تسلیاں ہیں۔ نا جانے کب عوام کو سکھ کے کچھ لمحے نصیب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش پر خزانے کے منہ کھول دیے، اسمبلی میں پیش پوسٹ بجٹ رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا

سیلاب اور حکمت عملی

دنیا کے بہت سے ممالک میں ہر سال سیلاب آتا ہے لیکن وہاں حکومتوں نے منصوبہ بندی کی ہے کہ کم سے کم نقصان ہو۔ وارننگ کا نظام موجود ہے جو بروقت اطلاع دیتا ہے۔ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے جہاں ان کی رہائش اور خوراک کا مناسب بندوبست ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں پاکستان سے نفرت کرنا وفاداری دکھانے کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے‘ حنا بیات

ہماری تیاری

ہم بھی تیاری کرتے ہیں لیکن سیلاب گزرنے کے بعد اربوں روپے خرچ کرکے دریاؤں کے حفاظتی پشتے نئے سرے سے تعمیر کرتے ہیں کہ اگلے سیلاب میں وہ پھر بہہ جائیں گے۔ پچھلے 75 سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مکمل الیکٹرک مرسڈیز جی واگن اب پاکستان میں بھی۔۔۔ جدید ترین گاڑی اور قیمت بھی مناسب

لیڈرز کا کردار

فہم اور دور اندیش لیڈرز نظام تشکیل دیتے ہیں۔ وہ چاہے رہیں یا نہ رہیں، نظام چلتا ہے اور عوام مستفید ہوتے ہیں۔ تاریخ میں عظیم لوگوں کی مثالیں ہمیں یہ بات سمجھاتی ہیں کہ ہمیں عوام کی سہولت کے بغیر کچھ نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی پھر لرز اٹھا

مقامی مسائل

ہمارے سویلین حکمران مقامی مسائل کے حل کے لیے موثر بلدیاتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں، نہ کوئی جدید صحت کی سہولت ہے، نہ تعلیم کا ادارہ، نہ کوئی قانون جس میں غریب شہری خود کو محفوظ سمجھیں۔

یہ بھی پڑھیں: راشد نسیم 150 گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے

معاشرتی تضاد

دوغلے لوگ؛ دو تین مرلوں کے گھروں سے آنے والے لوگ ریٹائر ہو کر عالی شان گھروں اور کڑوروں کے بنک بیلنس کے مالک بن جاتے ہیں۔ ان کے بچے ترقی یافتہ ممالک میں پڑھتے ہیں۔ انصاف دینے والے جج صاحبان دنیا کے سب سے مراعات یافتہ طبقہ ہیں، شاید بھول گئے ہیں کہ اللہ کے ہاں سخت جواب ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جاپانی وفد کی صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر سے ملاقات، افراد باہمی معذوری کی فلاح پر پاک، جاپان تعاون بڑھانے پر اتفاق

اخلاقیات کا بحران

ہم قول و فعل میں دوغلے ہیں اور دنیا کو مات دے چکے ہیں۔ میرا ایک جاننے والا جو اکثر تھائی لینڈ جاتا، کہا کرتا تھا: “یار! ہم حج کرکے اور نماز پڑھ کر بھی جھوٹ نہیں چھوڑتے۔ ہم دوہرے کردار کے دوغلے معاشرے کا حصہ ہیں۔”

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...