ٹرمپ کا ایک بار پھر ایرانی سکول پر بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار ، صحافی کو سوال پر کیا جواب دیا ؟ جانیے

ٹرمپ کا بم حملے کی ذمے داری سے انکار

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی سکول پر بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمارؔ….

میڈیا کے سوالات

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ آپ نے کہا تھا کہ ایران کے ہاتھ کسی طرح ٹوماہاک میزائل لگ گیا تھا اور انہوں نے اپنے ہی ایلیمنٹری سکول پر پہلے دن بم پھینک دیا۔ یہ بات کہنے والے صرف آپ ہی واحد انسان کیوں ہیں؟ جس پر ٹرمپ نے کہا کہ کیونکہ مجھے اس بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شدید دھند کے باعث موٹروے ایم 3 اور ایم 4 کئی سیکشنز پر بند

امریکی سے ذمے داری کا سوال

’’جنگ‘‘ کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران کے صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا امریکہ اس واقعے کی ذمے داری قبول کرے گا؟

یہ بھی پڑھیں: لاہور؛ سوتیلے باپ نے 5 سالہ بچی پر تیزاب پھینک دیا

ٹرمپ کا جواب

اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا کہ مجھے اس بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ ٹوماہاک ایک بہت طاقتور ہتھیار ہے اور اسے دوسرے ممالک بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ کئی ممالک کو فروخت کیا جاتا ہے۔ ممکن ہے ایران کے پاس بھی کچھ ٹوماہاک ہوں، یہ ایران ہو سکتا ہے یا کوئی اور ملک، لیکن اس معاملے کی فی الحال تحقیقات جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکسز، سرچارجز اور ڈیوٹیز کے باعث بجلی کی قیمتیں ناقابل برداشت ہوچکی ہیں،نیپرا رپورٹ میں انکشاف

حملے کا پس منظر

واضح رہے کہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ ان حملوں کے ابتدائی اہداف میں جنوبی شہر میناب میں واقع ایک گرلز ایلیمنٹری سکول بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 100 بچوں سے بدفعلی کے مرکزی ملزم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

امریکی اخبار کی رپورٹ

امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق سکول کو غالباً ٹوماہاک میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، جو ممکنہ طور پر امریکہ کی جانب سے داغا گیا تھا۔ کیونکہ اطلاعات کے مطابق ایران اور اسرائیل کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود نہیں ہیں۔

تفتیشی رائے

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ سکول کو ممکنہ طور پر امریکی میزائل نے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں طالبات اور اساتذہ سمیت کم از کم 175 افراد شہید ہوئے تھے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...