صحافی زاہد گشکوری نے حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کا پردہ چاک کردیا
حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کا پردہ چاک
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صحافی زاہد گشکوری نے حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کا پردہ چاک کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر سپریم کورٹ نے حکومت کا متنازع صدارتی آرڈیننس معطل کردیا
آئینی عہدے پر براجمان شخصیت کی سرکاری گاڑی
صحافی زاہد گشکوری نے انکشاف کیا ہے کہ آئینی عہدے پر براجمان شخصیت نے 14 کروڑ روپے کی سرکاری گاڑی بک کرائی ہے جبکہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت کسی بھی قسم کی گاڑی خریدنے پر پابندی لگا رکھی ہے، لیکن اس شخصیت کو باقاعدہ گاڑی امپورٹ کرنے کی اجازت دلوائی گئی ہے۔ وزارت خزانہ نے اس کی اجازت بھی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس، نادرا نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کی شناخت سے متعلق رپورٹ جاری کردی
حکومتی اخراجات کا تضاد
زاہد گشکوری کا کہنا تھا کہ ایک طرف 10 ارب روپے کا جہاز جو پنجاب حکومت نے خریدا، دوسری جانب وفاقی حکومت میں آئینی عہدہ رکھنے والی شخصیت نے 14 کروڑ روپے کی گاڑی امپورٹ کروائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان مشن اقوام متحدہ نیویارک سے 2 سفارتی افسروں کا تبادلہ
کفایت شعاری پالیسی کا عملی نفاذ
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح پچھلے 5 سال میں پنجاب میں 7 ارب روپے کی نئی گاڑیاں خریدی گئی ہیں جبکہ حکومت کفایت شعاری پالیسی کی بات کرتی ہے۔ وفاقی حکومت میں بھی 4 ارب کی گاڑیاں خریدی گئی ہیں، جو مختلف وفاقی اداروں کی جانب سے خریدی گئی ہیں۔ دیگر صوبائی حکومتوں نے بھی نئی گاڑیاں خریدی ہیں۔
سیاستدانوں اور سرکاری افسران کا رویہ
معروف صحافی کا کہنا تھا کہ حکومت کی کفایت شعاری پالیسی صرف کاغذوں کی حد تک ہے جبکہ عملی طور پر کوئی واضح اقدامات نظر نہیں آتے۔ سرکاری افسران گاڑیاں استعمال بھی کر رہے ہیں اور ساتھ پیٹرول بھی لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام لوگ ایسا نہیں کرتے لیکن 70 فیصد افسران ایسا ہی کرتے ہیں اور کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔
14 کروڑ روپے کی نئی گاڑی کفایت شعاری کے باوجود خریدی گئی ہے۔۔ زاہد گشکوری https://t.co/SbcjbbEyJK
— Sanaullah Khan (@SanaullahDawn) March 10, 2026








