امریکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری
ایران کی فوج کا انتباہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) - ایران کی فوجی کمان خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملے جاری رہے تو ایران صرف “جوابی حملوں” تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اپنے مخالفین کے خلاف مسلسل کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے، گزشتہ 6 ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے، قاسم خان
عالمی تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ
ایرانی فوجی ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایک بیان میں کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے اور دنیا کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بچہ ہو کر کبھی آپ کی کپتانی میں نہیں کھیلا، اور آپ اس بچے کی کپتانی میں کھیلے ہیں،، اعظم صدیقی نے بابر اعظم اور کامران اکمل کی پرانی تصویر شئیر کردی
تیل کی فراہمی میں رکاوٹ کے خطرات
الجزیرہ نیوز کے مطابق، ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق ایران امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کو تیل کی فراہمی روکنے کے لیے سخت اقدامات کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی صورت یہ اجازت نہیں دے گا کہ ایک لیٹر تیل بھی امریکہ، اسرائیل یا ان کے شراکت داروں تک پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر صالح بن سعد المربہ کا جدہ کے شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاسپورٹ ہالز کا معائنہ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا
دھمکی اور خطریں
ابراہیم ذوالفقاری نے مزید کہا کہ جو بھی جہاز یا آئل ٹینکر ان ممالک کی طرف جاتا ہوا پایا گیا، اسے جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دو سال میں یہ جھوٹی پریس کانفرنس بھی نہیں کروا سکے کہ عمران خان جیل سے نکلنے کیلئے منتیں کر رہاہے : سینئر تجزیہ کار امیر عباس
امریکہ کی ناکامی اور تیل کی قیمتوں کا اثر
ذوالفقاری نے کہا کہ امریکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کے بقول، خطے کی سکیورٹی براہ راست تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے، اور موجودہ عدم استحکام کے باعث خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
علاقائی استحکام کی ذمہ داری
انہوں نے الزام عائد کیا کہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے ذمہ دار وہ ممالک ہیں جنہوں نے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچایا ہے۔








