ایران جنگ کے بعد دنیا بھر میں پیٹرول مہنگا، کئی ممالک میں ایندھن کے بحران کا خدشہ
ایران پر حملوں کے بعد عالمی پیٹرول قیمتوں میں اضافہ
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور متعدد ممالک میں پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے کراچی کے لیے بڑے سولر منصوبے کی منظوری دے دی
امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ
الجزیرہ کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں فروری میں پیٹرول کی اوسط قیمت 2.94 ڈالر فی گیلن تھی جو اب بڑھ کر 3.58 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے، یعنی تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کئی ریاستوں میں قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ کیلیفورنیا میں پیٹرول 5 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ ہو گیا ہے، جو دو سال کی بلند ترین سطح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اب کس کو چور کہوں، اور کس کو کہوں کچھ سادہ۔۔۔
بین الاقوامی پیٹرول قیمتوں کا متاثر ہونا
عالمی ڈیٹا پلیٹ فارم ’گلوبل پیٹرول پرائسز‘ کے مطابق 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد کم از کم 85 ممالک میں پیٹرول مہنگا ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ کمبوڈیا میں تقریباً 68 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ویتنام میں 50 فیصد، نائجیریا میں 35 فیصد، لاؤس میں 33 فیصد اور کینیڈا میں 28 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کیخلاف تادیبی کارروائی سے روکنے کے حکم میں توسیع
جنگ کی وجہ سے توانائی کی سپلائی متاثر
ماہرین کے مطابق ایشیائی ممالک خاص طور پر آبنائے ہرمز پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، جہاں سے خلیجی ممالک کا تیل دنیا تک پہنچتا ہے۔ جنگ کے باعث اس اہم سمندری راستے میں رکاوٹ نے توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب، بنگلہ دیش نے بھی امداد کی پیشکش کر دی
جاپان اور جنوبی کوریا کی ہنگامی اقدامات
جاپان اور جنوبی کوریا اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں کیونکہ یہ بالترتیب 95 فیصد اور 70 فیصد تیل خلیجی خطے سے درآمد کرتے ہیں۔ دونوں ممالک نے توانائی مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں بحران کی شدت
جنوبی ایشیا میں صورتحال نسبتاً زیادہ سنگین سمجھی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے پاس مالی وسائل اور اسٹریٹجک ذخائر محدود ہیں۔ بنگلہ دیش میں حکومت نے توانائی بچانے کے لیے تمام سرکاری اور نجی جامعات بند کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ پاکستان میں سرکاری دفاتر کے لیے چار روزہ ورک ویک، اسکولوں کی بندش اور 50 فیصد ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کی گئی ہے۔








