برطانیہ اور یورپی ممالک کو بھی بحرانی کیفیت کا سامنا، برطانیہ میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا
برطانیہ اور یورپ میں بحرانی کیفیت
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک بحرانی کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کئی بار دھوکہ ملا، اب ڈپریشن کا شکار اور تنہا ہوں، اداکارہ خوشبو خان کا انکشاف
جنگ کے اثرات
تفصیلات کے مطابق، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث، خلیجی ممالک، پاکستان، اور انڈونیشیا کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے، لوگ 2022ء کے بعد پہلی بار بلند ترین پیٹرول کی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حبا بخاری کی پرانی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی
موجودہ معیشتی تجزیہ
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق، ٹریژری کے او بی آر واچ ڈاگ نے کہا ہے کہ اگر تیل اور گیس کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو سال کے اختتام تک افراط زر 3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اس زمانے میں چھٹی کلاس سے انگریزی شروع ہوتی تھی، آٹھویں کے بچے ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھتے، شام کے وقت کرکٹ کھیلنے کی پریکٹس کرتے تھے۔
افراط زر اور قیمتوں میں اضافہ
پروفیسر ڈیوڈ میلز نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا، تو اس کے اثرات افراط زر پر براہ راست مرتب ہوں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پیٹرول کی قیمت ایک ہفتے میں 3.5p اضافے کے ساتھ 135.67p فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیزل میں 6.9p کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت 149.01p تک پہنچ گئی ہے۔
پیٹرول کی قلت اور افراط زر کی شرح
بیشتر علاقوں میں پیٹرول کی قلت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ CPI افراط زر جنوری سے 12 مہینوں میں 3 فیصد پر جاری ہے، جو کہ بینک آف انگلینڈ کے 2 فیصد ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔








