برطانیہ اور یورپی ممالک کو بھی بحرانی کیفیت کا سامنا، برطانیہ میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگا
برطانیہ اور یورپ میں بحرانی کیفیت
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک بحرانی کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیلنج پر درخواست: وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل کو 27A کا نوٹس جاری
جنگ کے اثرات
تفصیلات کے مطابق، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث، خلیجی ممالک، پاکستان، اور انڈونیشیا کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے، لوگ 2022ء کے بعد پہلی بار بلند ترین پیٹرول کی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جدہ میں شوکت خانم ہسپتال کے تعاون سے کینسر سے آگاہی کے سلسلے میں تقریب، لیکچر اور سوالات کے جواب دیے گئے
موجودہ معیشتی تجزیہ
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق، ٹریژری کے او بی آر واچ ڈاگ نے کہا ہے کہ اگر تیل اور گیس کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو سال کے اختتام تک افراط زر 3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترسیلات زر بھیجنے کا معاملہ: پاکستانیوں نے بچت کے بجائے اپنا نقصان کیسے کیا؟
افراط زر اور قیمتوں میں اضافہ
پروفیسر ڈیوڈ میلز نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا، تو اس کے اثرات افراط زر پر براہ راست مرتب ہوں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پیٹرول کی قیمت ایک ہفتے میں 3.5p اضافے کے ساتھ 135.67p فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ڈیزل میں 6.9p کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں قیمت 149.01p تک پہنچ گئی ہے۔
پیٹرول کی قلت اور افراط زر کی شرح
بیشتر علاقوں میں پیٹرول کی قلت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ CPI افراط زر جنوری سے 12 مہینوں میں 3 فیصد پر جاری ہے، جو کہ بینک آف انگلینڈ کے 2 فیصد ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔








