دی ہنڈرڈ میں ابرار احمد کو شامل کرنے پر فرنچائز کی انڈین مالکن پر تنقید: ’انھیں ملک سے زیادہ پیسے کی پرواہ ہے‘
پاکستانی کھلاڑی ابرار احمد کا انتخاب
لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانوی ٹی 20 لیگ ’دی ہنڈرڈ‘ میں نیلامی کے لیے شامل ہونے والے پاکستانی کھلاڑیوں کا معاملہ تو نیلامی کے دن سے کہیں پہلے موضوع بحث تھا تاہم اب فرنچائز سن رائزرز لیڈز کی جانب سے پاکستانی سپنر ابرار احمد کو ٹیم کا حصہ بنائے جانے کے بعد اس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نعمان حبیب نے علیزے شاہ کے ساتھ کام کا تجربہ شیئرکردیا
ابرار احمد کی قیمت
بی بی سی اردو کے مطابق 27 سالہ ابرار احمد کی خدمات انڈین پریمیئر لیگ سے منسلک سن رائزرز حیدرآباد ٹیم کے مالکان کی ٹیم سن رائزرز لیڈز نے ایک لاکھ نوے ہزار برطانوی پاؤنڈز میں حاصل کی ہیں۔ یہ رقم پاکستانی روپوں میں چھ کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔
اس فیصلے پر کئی انڈین صارفین پاکستان اور انڈیا کی کشیدگی کے تناظر میں ابرار احمد کو ٹیم میں شامل کرنے پر فرنچائز کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بارشوں اور سیلاب کے باعث کون کونسی فصلیں شدید متاثر ہوئیں ۔۔؟ تفصیلات جانیے
نیلامی کے دوران تنقیدی رویے
خیال رہے کہ رواں برس فروری میں ذرائع نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا تھا کہ دی ہنڈرڈ میں کھلاڑیوں کی نیلامی کے دوران انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے منسلک فرنچائز اپنی ٹیموں میں پاکستانی کرکٹرز کو شامل نہیں کریں گی۔
پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹیموں میں شامل نہ کرنے کی اطلاعات منظرِ عام پر آنے کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے دی ہنڈرڈ کی آٹھوں فرنچائزز کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھیں امتیازی سلوک کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی مغوی اسسٹنٹ کمشنر زیارت کو بیٹے سمیت شہید کرنے کی شدید مذمت
آٹھ ٹیموں کی ملکیت
دی ہنڈرڈ میں شامل آٹھ ٹیموں میں سے چار، یعنی مانچسٹر سُپر جائنٹس، اہم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز، جزوی طور پر اُن کمپنیوں کی ملکیت ہیں، جن کے پاس آئی پی ایل کی ٹیموں کا بھی کنٹرول ہے۔
خیال رہے کہ شاہین آفریدی، سلمان آغا، صائم ایوب، عثمان طارق اور حارث رؤف سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد کھلاڑیوں نے دی ہنڈرڈ کے لیے خود کو رجسٹر کروایا تھا۔
شاہین آفریدی اور حارث رؤف نے گذشتہ برس ہنڈرڈ لیگ میں حصہ بھی لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ادویات کی درآمدات پر 100فیصد ٹیکس کا اعلان، بھارت کا زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ
کھلاڑیوں کی تعداد میں کمی
بعدازاں شاہین شاہ آفریدی نیلامی سے ایک دن قبل خود دستبردار ہو گئے تھے جس کے بعد دستیاب پاکستانی کھلاڑیوں کی تعداد 13 رہ گئی تھی۔
ان میں سے صرف دو کھلاڑی ابرار احمد اور عثمان طارق ہی فرنچائز کی توجہ کا مرکز بنے جبکہ حارث رؤف، شاداب خان اور صائم ایوب جیسے کھلاڑیوں میں کسی بھی فرنچائز نے دلچسپی نہیں دکھائی۔
عثمان طارق کو برمنگھم فینکس نے ایک لاکھ 40 ہزار پاؤنڈز کے عوض اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ یہ فرنچائز کسی آئی پی ایل ٹیم سے منسلک نہیں ہے۔
ابرار احمد کی بولی کی حساسیت
ابرار احمد کی بیس پرائس 75 ہزار ڈالرز مقرر کی گئی تھی، اُنھیں خریدنے کے لیے سن رائزرز اور راکٹس نے بولی لگائی۔
سن رائزرز کے ہیڈ کوچ ڈینیئل ویٹوری نے بی بی سی سپورٹس کو ابرار احمد کے حوالے سے بتایا کہ وہ بہت منفرد بولر ہیں اور بہت سے مقامی کھلاڑیوں کے لیے اُنھیں کھیلنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔
ویٹوری کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے بارے میں ہونے والی قیاس آرائیوں سے آگاہ ہیں، لیکن اُنھیں پاکستانی کھلاڑیوں کی بولی لگانے سے گریز کی کوئی ہدایات نہیں ملیں۔
ویٹوری کا مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی ٹیموں کے بہت اچھے سپنرز موجود تھے، لیکن ’ابرار ہماری ترجیح تھی۔‘








