نادرا نے ڈیجیٹل شناختی کارڈ قبول نہ کرنے والے اداروں کو خبردار کردیا
نادرا کا انتباہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے نادرا نے ڈیجیٹل شناختی کارڈ قبول نہ کرنے والے اداروں کو خبردار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان لڑکی کے پیٹ میں درد، ہسپتال لے جایا گیا تو آپریشن کے دوران اندر سے کیا نکلا؟ ڈاکٹر بھی حیران
ڈیجیٹل شناختی کارڈ کی اہمیت
نادرا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل شناختی کارڈ فزیکل شناختی کارڈ کے مساوی ہے، بعض سرکاری دفاتر، ادارے ڈیجیٹل کے بجائے فزیکل کارڈ یا فوٹو کاپی طلب کر رہے ہیں، یہ طرزِعمل مروجہ قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈ باکسنگ چیلنج: پاکستان کی لاورا اکرم کو سیمی فائنل میں شکست
قانونی حیثیت
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ نادرا آرڈیننس کے تحت ڈیجیٹل شناختی ضوابط تشکیل دیے گئے، ریگولیشن 9 اور 10 ڈیجیٹل شناختی اسناد کو قانونی حیثیت دیتے ہیں، یہ ضوابط ڈیجیٹل شناختی اسناد کو شناخت کا درست ثبوت قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی نے ’’حق دو لیاری کی عوام کو‘‘ کے نام سے مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا
شہریوں کے لیے فوائد
نادرا کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کی غیرضروری فوٹو کاپیوں کی ضرورت کم ہوتی ہے، ڈیجیٹل شناختی کارڈ سے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے اور شناختی معلومات کے غلط استعمال کی روک تھام ہوتی ہے۔
احکامات کی پابندی
اتھارٹی نے کہا ہے کہ سرکاری محکمے، عوامی اور مالیاتی ادارے، ٹیلیکام آپریٹرز احکامات کی پابندی یقینی بنائیں، اس حوالے سے شہری اپنی شکایات نادرا کے سرکاری شکایتی نظام کے ذریعے درج کرا سکتے ہیں۔








