پاکستان میں آلودہ پانی کی وجہ سے گردوں کے امراض تیزی سے سنگین صورت اختیار کر رہے ہیں:پی ایم اے
گردوں کے امراض کا بحران
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان میں گردوں کے امراض کا بحران تیزی سے سنگین صورت اختیار کر رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ آلودہ پانی کا استعمال بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: والدہ کی خواہش پر دولہا ہیلی کاپٹر میں دلہن گھر لے کر پہنچ گیا
نئے مریضوں کی تعداد
ڈان نیوز میں شائع صحافی فائزہ الیاس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال ملک میں تقریباً 25 ہزار سے 50 ہزار نئے مریض ایسے سامنے آئیں گے جو گردوں کے آخری مرحلے کی بیماری میں مبتلا ہوں گے اور انہیں ڈائیلاسس یا گردے کی پیوندکاری کی ضرورت پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں: شہر قائد میں کہاں کتنی بارش ہوئی؟ محکمہ موسمیات نے اعداد و شمار جاری کر دیئے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی تشویش
یہ بات پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے عالمی یومِ گردہ کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہی۔ اس سال اس دن کا موضوع ’’سب کے لیے گردوں کی صحت — انسانوں کی نگہداشت اور زمین کا تحفظ‘‘ رکھا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق پاکستان میں گردوں کی خرابی کی بڑی وجہ آلودہ پانی ہے اور ملک کی تقریباً 80 فیصد آبادی کو محفوظ پینے کا پانی میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں، خصوصاً سندھ اور بلوچستان میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میکسیکو میں امریکی سرحد کے قریب 5 موسیقار اغوا کے بعد قتل
پانی کی آلودگی
ان کے مطابق مختلف تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں میں پانی میں آرسینک، سیسہ اور دیگر بھاری دھاتیں، سخت معدنیات اور جراثیم شامل ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی 90 فیصد سے زیادہ پانی کے ذرائع آلودہ پائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر شورو نے کہا کہ کراچی میں 80 فیصد سے زیادہ شہری پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ گیس کی قلت کے باعث لوگ پانی ابال بھی نہیں سکتے، جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان صومالیہ کے علاقائی استحکام کی غیر مشروط مکمل حمایت کرتا ہے: اسحاق ڈار
حکومتی اقدامات کی ضرورت
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں صاف اور فلٹر شدہ پانی کی فراہمی کے لیے قومی ہنگامی منصوبہ بنایا جائے تاکہ شہریوں کو آلودہ پانی کے باعث گردوں کے نقصان سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا؟
عمر کے لحاظ سے مریضوں کی تعداد
پی ایم اے کے مطابق پاکستان میں 40 سال سے زائد عمر کے تقریباً 15 سے 20 فیصد افراد گردوں کی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحت کے شعبے کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے کیونکہ موجودہ اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: موٹر وے پر نان ایم-ٹیگ اور کم بیلنس والی گاڑیوں پر 50 فیصد اضافی ٹول ٹیکس نافذ، یکم جون سے اطلاق
بنیادی صحت کی سہولیات میں بہتری
ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں بنیادی مراکزِ صحت کو مضبوط بنانے، شوگر اور بلند فشارِ خون کی بروقت تشخیص، سرکاری اسپتالوں میں ڈائیلاسس مراکز اور گردوں کے شعبوں میں اضافہ کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔
عوام کے لئے مشورہ
عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ صرف ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی استعمال کریں، زیرِ زمین غیر صاف پانی سے پرہیز کریں، بلڈ پریشر اور شوگر کی باقاعدہ جانچ کرائیں اور زیادہ نمک والی فاسٹ فوڈ اشیا اور مشروبات سے بچیں کیونکہ یہی عوامل گردوں کی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں۔








