پاکستان میں آلودہ پانی کی وجہ سے گردوں کے امراض تیزی سے سنگین صورت اختیار کر رہے ہیں:پی ایم اے
گردوں کے امراض کا بحران
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان میں گردوں کے امراض کا بحران تیزی سے سنگین صورت اختیار کر رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ آلودہ پانی کا استعمال بتایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو نواز شریف کو مائنس کرنے آیا تھا وہ خود گھر اور پارٹی سے مائنس ہوگیا ، عظمیٰ بخاری
نئے مریضوں کی تعداد
ڈان نیوز میں شائع صحافی فائزہ الیاس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال ملک میں تقریباً 25 ہزار سے 50 ہزار نئے مریض ایسے سامنے آئیں گے جو گردوں کے آخری مرحلے کی بیماری میں مبتلا ہوں گے اور انہیں ڈائیلاسس یا گردے کی پیوندکاری کی ضرورت پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں 2 مختلف آپریشنز میں شہید ہونیوالے کیپٹن محمد زوہیب الدین اور سپاہی افتخار حسین کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آ گئیں
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی تشویش
یہ بات پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے عالمی یومِ گردہ کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہی۔ اس سال اس دن کا موضوع ’’سب کے لیے گردوں کی صحت — انسانوں کی نگہداشت اور زمین کا تحفظ‘‘ رکھا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالغفور شورو کے مطابق پاکستان میں گردوں کی خرابی کی بڑی وجہ آلودہ پانی ہے اور ملک کی تقریباً 80 فیصد آبادی کو محفوظ پینے کا پانی میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں، خصوصاً سندھ اور بلوچستان میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کی بطور سینیٹر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری
پانی کی آلودگی
ان کے مطابق مختلف تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں میں پانی میں آرسینک، سیسہ اور دیگر بھاری دھاتیں، سخت معدنیات اور جراثیم شامل ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی 90 فیصد سے زیادہ پانی کے ذرائع آلودہ پائے گئے ہیں۔ ڈاکٹر شورو نے کہا کہ کراچی میں 80 فیصد سے زیادہ شہری پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ گیس کی قلت کے باعث لوگ پانی ابال بھی نہیں سکتے، جس سے بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشہور پاکستانی خاتون ٹک ٹاکر کو قتل کیس میں سزائے موت سنائی گئی
حکومتی اقدامات کی ضرورت
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں صاف اور فلٹر شدہ پانی کی فراہمی کے لیے قومی ہنگامی منصوبہ بنایا جائے تاکہ شہریوں کو آلودہ پانی کے باعث گردوں کے نقصان سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: داعش خراسان کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز میں ملوث دہشتگرد مارا گیا
عمر کے لحاظ سے مریضوں کی تعداد
پی ایم اے کے مطابق پاکستان میں 40 سال سے زائد عمر کے تقریباً 15 سے 20 فیصد افراد گردوں کی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحت کے شعبے کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے کیونکہ موجودہ اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرور شاہدہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر سائنس ٹرسٹ کی لینڈ سائٹ پر تقریب کا انعقاد
بنیادی صحت کی سہولیات میں بہتری
ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں بنیادی مراکزِ صحت کو مضبوط بنانے، شوگر اور بلند فشارِ خون کی بروقت تشخیص، سرکاری اسپتالوں میں ڈائیلاسس مراکز اور گردوں کے شعبوں میں اضافہ کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔
عوام کے لئے مشورہ
عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ صرف ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی استعمال کریں، زیرِ زمین غیر صاف پانی سے پرہیز کریں، بلڈ پریشر اور شوگر کی باقاعدہ جانچ کرائیں اور زیادہ نمک والی فاسٹ فوڈ اشیا اور مشروبات سے بچیں کیونکہ یہی عوامل گردوں کی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں۔








