ہر چیز کا علاج ڈنڈا نہیں ہوتا ، لوگ اس نظام سے نفرت کرتے ہیں ، تیمور سلیم جھگڑا
تیمور سلیم جھگڑا کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے موجودہ سیاسی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں حکومت کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود حقیقی قومی یکجہتی کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بگ بیش لیگ میں شاداب خان کا شاندار کم بیک، اکیلے ہی اپنی ٹیم کو جیت دلا دی
علاقائی چیلنجز
تیمور جھگڑا نے کہا کہ اس وقت خطے میں حالات انتہائی حساس ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو بیک وقت مختلف محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے، جن میں بھارت کے ساتھ کشیدگی، افغانستان کے ساتھ سرحدی صورتحال اور ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی علاقائی غیر یقینی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے اندرونی حالات بھی سب کے سامنے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت قومی یکجہتی کی بات تو کرتی ہے، تاہم عملی اقدامات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بنچ نے پاکستانیوں کے غیرملکی بینک اکاؤنٹس سے متعلق ازخودنوٹس کیس نمٹا دیا
عمران خان کی صحت
اگر واقعی قومی اتحاد مطلوب ہے تو پھر ملک کے سب سے مقبول سیاسی رہنما اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: امریکہ پہلے تو آیا نہیں لیکن پاکستانی حملے کے بعد فوری آگیا، تو اس جنگ کا فاتح کون ہوا؟ صحافی نے ایسی بات بتادی کہ قوم کے سر فخر سے بلند ہوگئے۔
قومی یکجہتی کے تقاضے
تیمور جھگڑا نے سوال اٹھایا کہ کیا قومی یکجہتی کا تقاضا یہ ہے کہ عمران خان کو مناسب علاج کی سہولت نہ دی جائے؟ کیا قومی یکجہتی کے نام پر ان کے اہلِ خانہ کی ملاقاتیں محدود کرنا درست ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مریض کے لیے اس کے ذاتی معالجین تک رسائی بنیادی حق ہے، لہٰذا سابق وزیرِ اعظم کے ذاتی ڈاکٹروں کو علاج کے لیے رسائی نہ دینا بھی قابلِ تشویش ہے۔
حکومت سے مطالبات
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے اور قومی مفاد میں ایسے اقدامات کیے جائیں جو واقعی قومی یکجہتی کو فروغ دیں۔








