راولپنڈی میں 10سالہ گھریلو ملازم کو بستر پر پیشاب کرنے پر تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج، گرفتار ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
تیز رفتار ترقی
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) دس سال کے گھریلو ملازم پر تشدد کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، تھانہ نیو ٹاؤن پولیس نے ایف آئی آر میں مزید سنگین دفعات شامل کرلیں، جبکہ گرفتار ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 14 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ
قانونی دفعات کا اضافہ
پولیس کے مطابق مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ دو سو بیاسی اے بھی شامل کر دی گئی ہے۔ جبکہ پنجاب بے سہارا و نظر انداز بچے ایکٹ 2024 کی دفعہ 34 کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ شق بے سہارا یا نظر انداز بچے کو غیر مجاز تحویل میں رکھنے سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور پولیس کی بروقت مداخلت نے 14 سالہ لڑکی کے اغواء کی کوشش ناکام بنا دی، لڑکا گرفتار
گھریلو ملازمین کی حفاظت
پولیس کے مطابق پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 کی شق 32 دو بھی مقدمے کا حصہ بنا دی گئی ، جو پندرہ سال سے کم عمر نابالغ بچوں کو گھریلو ملازمت پر رکھنے سے متعلق ہے۔
معاملے کی تفصیلات
پولیس کے مطابق ملزم شیخ دائم کو تفتیش مکمل ہونے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا۔ ملزم نے دس سالہ گھریلو ملازم کو بستر پر پیشاب کرنے کی وجہ سے مبینہ طور پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں سات مارچ کو تھانہ نیو ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا.








