کتنی ہی اہم رپورٹس گل سڑ گئیں ہم عمل درآمد کرنے کی حس سے بھی محروم ہیں، جیسی افراتفری اور شدت پسندی معاشرے میں ہے یہ عذاب ہی ہے
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 466
حکمران کی بھوک ملک کھا جاتی ہے
پچھلی ایک دھائی سے رمضان بازاروں کا رواج ہو گیا ہے۔ یہ بھی دکھاوا اور نا اہلی کی ایک اور مثال ہے۔ اتنی بے بس حکومتیں شاید پہلے کبھی بھی نہیں تھیں۔ رمضان بازاروں کی چار دیواری میں حکومت کی دھونس کی وجہ سے قیمت کم اور اشیاء کی کوالٹی ناقص ہوتی ہے۔ اس بازار کی چار دیواری سے باہر دوکانداروں کی اپنی من مانی قیمت ہے اور حکومت کہیں نظر نہیں آتی۔ کچھ ایسی ہی کہانی اتوار بازاروں کی بھی ہے۔ یہاں بھی حکومتیں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتی ہیں اور دوکاندار حکومت کی آنکھوں میں۔ یہ کاروباری حضرات سال بھر عمرے بھی کرتے ہیں، کعبہ کے طواف بھی کرتے ہیں، الحاج بھی کہلاتے ہیں، ذخیرہ اندوزی بھی کرتے ہیں اور ملاوٹ بھی۔
رمضان بازاروں کی حقیقت
میں بھی ان رمضان بازاروں کے دورہ کرتا تھا۔ اپنی رپورٹس میں مسائل کی نشاندھی بھی کرتا اور تجاویز بھی پیش کی جاتی تھیں مگر نقار خانے میں طوطی کی بھلا کون سنتا ہے۔ مجھے یاد ہے ایک روز حافظ آباد کے دورے پر تھا۔ ایک پھل فروش کے پھلوں کی کوالٹی چیک کر رہا تھا کہ گاہک نے اس سے کلو بھر آم خریدے۔ پھل فروش کا ترازو وزن ایک کلو ہی بتا رہا تھا مگر مجھے لگا آم کلو سے کم تھے۔ میں نے اس کے باٹ پر پڑا سٹیل کا کٹور اٹھایا تو معلوم ہوا اس نے کٹورے کے ساتھ مقناطیس لگا رکھا تھا جو وزن پورا اور تول کم دکھاتا تھا۔ اسے پولیس کے حوالے کیا مجھے نہیں معلوم کہ پولیس نے اس کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ہوگا مگر میں یہ ضرور سوچتا رہا کہ ہم بھی کیسے لوگ ہیں جو اس ماہ مبارک میں جس کا صلہ اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے اور جس کے تقدس کا یہ حال تھا کہ عرب کے جابر اور لڑاکے لوگ اس کے احترام میں اپنی لڑائیاں بند کر دیتے تھے مگر ہم ہیں کہ رمضان میں بھی ہیرا پھیری سے باز نہیں رہ سکتے۔
قیادت اور عوام کا کردار
یار! اس سے بڑی اور کیا مثال ہو گی کہ ہمارے لیڈرز رمضان کے مقدس مہینے میں بھی ٹی وی پر بیٹھے جھوٹ پہ جھوٹ بولے چلے جاتے ہیں اور ہم ان کے جھوٹ کی داد دیتے ہیں۔ ہم سب ہی ایسے ہو گئے ہیں۔ یہ تو اللہ کے گنتی کے نیک بندے ہیں اور سب سے بڑی بات کہ ہم اس بنی ﷺ کی امت سے ہیں جو اللہ کے سب سے پیارے نبی ہیں ورنہ کب کا اللہ کا عذاب آ چکا ہوتا۔ شاید جیسی افراتفری اور شدت پسندی اس معاشرے میں ہے یہ اللہ کا عذاب ہی ہے۔
رپورٹس کا عدم عمل درآمد
ویسے بھی ہم رپورٹس پر عمل درآمد کرنے کی حس سے بھی محروم ہیں۔ اس ملک میں کتنی ہی اہم رپورٹس سرد خانے میں پڑی گل سڑ گئیں۔ حمود الرحمان رپورٹ پر عمل درآمد اس ملک کے مستقبل کے سیاسی تعین کے لئے انتہائی ضروری تھی مگر ہم نے اس رپورٹ کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرکے اس ملک کا سیاسی مستقبل داؤ پر لگایا۔ جس ملک میں 2 وزرائے اعظم کے قاتل تلاش نہ کئے جا سکیں، انصاف کے فیصلے جج اپنے ضمیر کے مطابق نہ لکھ سکیں وہاں کیسی بھلائی، کیسی توقع۔ عدالتی تاریخ کا وہ فیصلہ خود پر ہی اتنا بد نما داغ تھا کہ انصاف کی سب سے بڑی عدالت کو شرمندگی کا بوجھ قیامت تک اٹھانا پڑے گا۔ با شعور لوگ ایسے نظام پر کڑھ سکتے ہیں، جل سکتے ہیں۔ کاش ان کے جلنے سڑنے کا کہیں اثر ہو۔”لی کوان“ کا قول ہے؛
”جب تم کسی ملک میں چوروں کی حکومت دیکھو تو سمجھ جاؤ اس کی 2 وجوہات ہیں یا تو اس ملک کا نظام کر پٹ ہے یا وہاں کے عوام بے شعور ہیں“
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








