بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اسلاموفوبیا کی مذمت کے لیے متحد ہو: وزیر خارجہ
اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی کوششیں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اسلاموفوبیا کی روک تھام کے لیے عالمی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے موقع پر ہم دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب، امتیازی سلوک، دشمنی اور تشدد کے خاتمے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ میں اضافہ، اب ماہانہ تنخواہ کتنی ہوگی؟ پتہ چل گیا۔
پاکستان کا عالمی دن میں کردار
اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے موقع پر دفتر خارجہ سے جاری اپنے پیغام میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے، پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس تاریخی فیصلے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے تحت 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مشکلات سے عزم تک: ماسٹر صاحب کی دکان کو نئی زندگی ملنے کی کہانی
تشویشناک اضافے اور اس کے اثرات
محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافہ دنیا کے مختلف حصوں میں نہایت افسوسناک واقعات کی صورت میں سامنے آیا ہے، جن میں قرآنِ مجید کی بے حرمتی، حجاب پہننے والی خواتین پر حملے، مساجد کی توڑ پھوڑ، مذہبی بنیادوں پر شناخت، اور عوامی و میڈیا بیانیے میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار شامل ہیں۔ اسلاموفوبیا موجودہ کشیدگیوں اور تنازعات کو مزید بڑھاتا ہے، جو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنتا ہے۔
اقوام متحدہ کا منصوبۂ عمل
وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم او آئی سی کے رکن ممالک اور اسلاموفوبیا کے خلاف اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کے ایک منصوبۂ عمل (UN Plan of Action) کی تیاری پر کام کر رہے ہیں، جو اس مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے، روکنے اور ختم کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک فراہم کرے گا۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اسلاموفوبیا کی مذمت کے لیے متحد ہو اور ان ساختیاتی عوامل کا بھی تدارک کرے جو اس کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔ پاکستان تمام ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ معاشروں کے درمیان باہمی احترام، مکالمے اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اقدامات کریں اور برداشت، وقار اور پُرامن بقائے باہمی کی اقدار کو برقرار رکھیں۔








