ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید تین ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، اسرائیل کا اعلان
اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں کم از کم مزید تین ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے سی این این سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف مہم کے دوران ابھی ہزاروں اہداف باقی ہیں اور فوج ان پر حملوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 جولائی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے: شرجیل میمن
حملوں کی منصوبہ بندی
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اپنے امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر آئندہ کم از کم تین ہفتوں تک کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر چکی ہے، جو یہودی مذہبی تہوار فسح تک جاری رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مدت کے بعد بھی مزید تین ہفتوں تک کے لیے گہرے منصوبے تیار کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کا ترکیہ کے طیارہ حادثے پر اظہار افسوس
فوجی کارروائیوں کی تفصیلات
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی اور وسطی ایران میں تقریباً چار سو فضائی حملوں کی لہریں کی جا چکی ہیں۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور آگ، دفاع اور اسلحہ سازی سے متعلق یونٹوں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا؟
بین الاقوامی اتحادیوں کا کردار
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے کہا کہ اسرائیلی فوج کسی گھڑی یا مقررہ وقت کے مطابق کارروائی نہیں کر رہی بلکہ اس کا مقصد اپنے اہداف حاصل کرنا ہے، جن میں ایرانی نظام کو شدید حد تک کمزور کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی
حزب اللہ کا کردار
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فوجی کارروائیوں نے لبنان میں موجود حزب اللہ کو بھی اس تنازع میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کے بقول گزشتہ سال گرمیوں میں بارہ روزہ جنگ کے دوران حزب اللہ نے خود کو اس تنازع سے دور رکھا تھا کیونکہ اس وقت ایران کے خلاف کارروائی محدود نوعیت کی تھی، تاہم اب صورتحال مکمل جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے باعث حزب اللہ نے بھی محاذ سنبھال لیا ہے۔
آئندہ کی حکمت عملی
اسرائیلی حکام کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہیں۔ اسرائیلی فوج اپنی شمالی سرحد کی جانب مزید فوجی دستے بھیج رہی ہے تاکہ کچھ علاقوں پر قبضہ کیا جا سکے اور حزب اللہ کو سرحد سے مزید پیچھے دھکیلا جا سکے۔








