افغان طالبان اور دہشت گرد شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں، باجوڑ میں معصوم شہریوں پر حملہ کیا، عطا ءتارڑ
باجوڑ میں حملہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا ءتارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور دہشت گرد شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں۔ باجوڑ میں معصوم شہریوں پر حملہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بھارت حملے کی تیاری کررہا ہے؟ میجر گورو آریہ کا ذومعنی ٹوئیٹ، سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم
واقعات کی تفصیلات
ایک بیان میں عطا ءتارڑ نے کہا کہ آج دوپہر 3 بج کر 30 منٹ پر افغان طالبان نے سرحد پار سے ضلع باجوڑ کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ افغان طالبان نے توپ خانے اور مارٹر فائرنگ کے ذریعے شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس میں ایک گھر مارٹر گولے کی زد میں آیا۔ ضلع باجوڑ کے سالار زئی اور تبستہ لیٹئی علاقوں میں دانستہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں 4 معصوم شہری شہید اور 5 سالہ بچہ شدید زخمی ہوا۔ شہید ہونے والے چاروں افراد میں ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ شامل ہیں۔ مقامی لوگوں نے افغان طالبان کے دہشت گردانہ اقدام کی شدید مذمت کی اور غم و غصے کا اظہار کیا۔
حملوں کی مذمت
’’جنگ‘‘ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا ءتارڑ نے یہ بھی کہا کہ افغان طالبان رجیم جان بوجھ کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ افغان طالبان فتنہ الخوارج جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ایسے حملے بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ آپریشن ’’غضب للحق‘‘ کی مؤثر کارروائیوں کے باعث افغان طالبان اور دہشت گرد شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں۔ اس بزدلانہ اور گھناؤنے حملے کے ذمے دار افغان طالبان کی چوکیوں اور انفراسٹرکچر کو مناسب اور بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔








