ایم ٹیگ معاملے پر طلبا کو رعایت دیں، ہراساں نہ کریں، ہم سٹوڈنٹ تھے تو طلبا کیلئے ریلیف اور رعایت ہوا کرتی تھی؛ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے ریمارکس
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ میں موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس سرفراز ڈوگر نے طلبا کو رعایت دینے کا مطالبہ کیا اور تاکید کی کہ انہیں ہراساں نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا، "ہم سٹوڈنٹ تھے تو طلبا کے لیے ریلیف اور رعایت ہوا کرتی تھی۔"
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی مٹی کا ایک ایک ذرہ بنیان مرصوص بن کر لڑے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
چیف جسٹس کا سٹیٹ کونسل سے استفسار
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، چیف جسٹس نے سٹیٹ کونسل سے سوال کیا کہ عبدالرحمان صاحب، یہ ایم ٹیگ کیوں لگا رہے ہیں؟ سٹیٹ کونسل نے جواب دیا کہ، "مائی لارڈ، کچہری دھماکے کے بعد سکیورٹی کا مسئلہ تھا۔ اس واقعے میں حملہ آور موٹر سائیکل کے ذریعے وہاں پہنچا تھا۔ اب پالیسی ہے کہ شہر میں داخلے کے وقت گاڑیوں اور موٹر سائیکلز پر ایم ٹیگ ہونا چاہئے۔"
یہ بھی پڑھیں: ادلے کا بدلہ: چالان کرنے پر لیسکو اہلکار نے وارڈن کی بجلی کاٹ دی
عوام کی حفاظت کا خیال
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہئے، اگرچہ اس میں کچھ مشکلات بھی آتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبا کو ریلیف اور رعایت فراہم کی جائے اور انہیں ہراساں نہ کیا جائے۔ اس پر سٹیٹ کونسل نے کہا کہ وہ عدالتی ہدایات سے چیف کمشنر کو آگاہ کردیں گے۔
عدالت کا حکم
عدالت نے سٹیٹ کونسل کو حکم دیا کہ وہ انتظامیہ کا جواب 6 اپریل تک جمع کروائے۔








