صدر ٹرمپ کو اب جنگ جاری رکھنے یا ترک کرنے میں سے کوئی ایک فیصلہ کرنا ہے: نیو یارک ٹائمز
مشرق وسطیٰ کی جنگ کا آغاز
نیویارک ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اب جنگ جاری رکھنے یا اسے ترک کرنے کے فیصلوں میں سے کوئی ایک فیصلہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 97 فیصد اضافے سے 82 ہزار روپے ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے
امریکی صدر کا چیلنج
اخبار نے لکھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ اپنے ہی طے کردہ انتہائی مشکل اور سخت اہداف کے حصول کے لیے جنگ جاری رکھتے ہیں یا پھر تیزی سے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتے اس تنازع سے نکلنے کی کوئی کوشش کرتے ہیں۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر یہ جنگ ایک کمزور دشمن کے خلاف شروع کی تھی، لیکن آج اس جنگ کی بڑی بھاری معاشی قیمت امریکہ اور اتحادی بھر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یکم محرم الحرام کو عام تعطیل کا اعلان
ایران کی صورتحال
ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ہدف تاحال پورا نہیں ہوا۔ صرف میزائل کے ایرانی ٹھکانوں، فضائی دفاعی نظام اور ایرانی بحریہ کو نشانہ بنایا گیا، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای تو قتل ہوگئے لیکن ان کا نظریہ قائم ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر ہیں۔ طاقتور پاسداران انقلاب سائبر اٹیکس بھی کر رہی ہے، آبی سرنگیں بھی بچھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے عارف علوی کو کسی بھی درج مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا
جنگ کے اثرات
’’جنگ‘‘ کے مطابق نیو یارک ٹائمز نے لکھا کہ ٹرمپ نے یہاں جنگ چھوڑی تو ایران ایک بار پھر 10 یا زیادہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی پوزیشن میں ہوگا۔ امریکی حکام اب یہ مان رہے ہیں کہ انہوں نے آبنائے ہرمز بند کرنے، عالمی معیشت پر اثر انداز ہونے اور خطے میں لڑائی پھیلانے کی ایرانی طاقت کو کم جانا تھا۔ اوول آفس میں جب ٹرمپ نے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ڈین کین سے پوچھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو فوری کیوں نہیں کھول سکتا؟ جنرل کا جواب سیدھا تھا کہ اگر صرف ایک ایرانی فوجی یا ملیشیا کا رکن ہرمز کی تنگ آبنائے میں اسپیڈ بوٹ لے کر آجائے تو وہ کسی بھی سپر ٹینکر کو آسانی سے موبائل میزائل سے ہدف بنا سکتا ہے۔
اسرائیل اور ایران کی حکمت عملی
نیو یارک ٹائمز کے مطابق جنگ سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو اسرائیلی حکام نے یقین دلایا کہ اگر پہلے ہی حملے میں سپریم لیڈر سمیت ایرانی قیادت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے بڑے حصے کو ختم کردیا تو ایران کے لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ نیتن یاہو نے یہی آئیڈیا ٹرمپ کو بیچ دیا۔ اسی لیے ٹرمپ نے پہلے حملے کی صبح ایرانی عوام سے کہا کہ جب ہم حملہ ختم کردیں تو آپ لوگ حکومت پر قبضہ کرلیں، مگر ایسا ہوا نہیں، ایران میں ریلیاں صرف حکومت کی حمایت میں نکلیں۔








