حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کیسے ممکن ہوا؟ جسٹس اسجد جاوید گھرال کے سابقہ بیوی کے ساتھ زیادتی کیس میں ریمارکس
لاہور میں ہائیکورٹ کی سماعت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائیکورٹ میں سابقہ بیوی کے ساتھ زیادتی کے کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جسے عدالت نے عید کے بعد تک ملتوی کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا مقصد صرف بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا، بی سی بی کے تمام مطالبات مانے گئے ، محسن نقوی
سماعت کی تفصیلات
سماعت جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کی، جنہوں نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ واقعہ کب پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم فوج کے دشمن نہیں ہیں بلکہ فوج کے سیاسی کردار اور ان کی پالیسیوں کے ناقد ہیں، مولانا فضل الرحمان
تفتیشی افسر کی معلومات
تفتیشی افسر کے مطابق ملزم نے 23 دسمبر 2024 کو خاتون کو طلاق دی، جبکہ 17 اگست 2025 کو مبینہ طور پر سابقہ بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم دورانِ تفتیش گنہگار پایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سے چیئرمین پاک میڈیا فورم سعودی عرب کی ملاقات
ملزم کا وکیل اور مؤقف
ملزم کے وکیل عبدالجبار مغل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کر لیا تھا۔ اس پر جسٹس اسجد جاوید گھرال نے استفسار کیا کہ حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کیسے ممکن ہوا؟ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزم نے درحقیقت طلاق نہیں دی تھی بلکہ خاتون نے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد ملزم نے رجوع کر کے دوبارہ نکاح کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا سے بھاری پیسہ کمانے والے ایف بی آر کے ریڈار پر آگئے، تمام انفلوئنسرز، کنٹنٹ کریٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ
عدالت کے ریمارکس
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر خاتون اب بھی ملزم کی بیوی ہے تو اسے عدالت میں پیش ہو کر اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔
مقدمے کی حالت
ملزم کے خلاف ڈسکہ کے تھانے میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، جبکہ عدالت نے مزید سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔







