تم کو خدمت کی جو مل جائے، وہ مہلت سمجھو ۔۔۔
باپ کی عظمت
جذبۂ اقدار کی حکمت
جوششِ جذبۂ اقدار کی حکمت سمجھو
فہم سمجھو، کبھی توضیعِ فراست سمجھو
لاغری میں اسے ایمان کی قوّت سمجھو
تم کو خدمت کی جو مل جائے، وہ مہلت سمجھو
میں تو کہتا ہوں اس باپ کی عظمت سمجھو
زندگی کے اسباق
جس کے ہوتے ہوئے اس شان سے جینا سیکھے
بزم میں جامِ مروّت کا ہی پینا سیکھے
اور اس پر کہ محبّت کا قرینہ سیکھے
شان سمجھو کبھی اس باپ کی شوکت سمجھو
میں تو کہتا ہوں کہ اس باپ کی عظمت سمجھو
صدیوں کی طاقت
جس کے بل بوتے پہ صدیوں کی گرانی ٹوٹی
تم کو بلوان بنانے میں جوانی ٹوٹی
تم نہ جھک جاؤ کہیں ،قدرِ شہانی ٹوٹی
اپنی نظروں میں کہیں حسنِ قدامت سمجھو
میں تو کہتا ہوں کہ اس باپ کی عظمت سمجھو
محبت کی گہرائی
جانے کیا کھیل کھیلے تھے جو اس نے یہیں کھیلے ہیں
رنج و غم آپ کی خاطر جو یہاں جھیلے ہیں
صرف اسی واسطے دن رات یہاں میلے ہیں
ہے محبت سے جو اونچی، وہ محبت سمجھو
میں تو کہتا ہوں کہ اس باپ کی عظمت سمجھو
کلام : منظر انصاری








