ایران بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور عرب ممالک پر حملے بند کرے: ریاض میں وزرائے خارجہ اجلاس کا اعلامیہ جاری
عرب ممالک کا مشترکہ بیان
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن )عرب ممالک نے بدھ کے روز ریاض میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایران کے حملوں کے ردِعمل میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں ایران کے ’دانستہ حملوں‘ کی مذمت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کا وفد پاکستان کے مطالبات کو پوری طرح تسلیم کرنے کو تیار نہیں، ذرائع
اجلاس کی تفصیلات
بی بی سی اردو کے مطابق اس اہم اجلاس میں بحرین، کویت، لبنان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر ممالک کے نمائندے شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے ہاتھوں پر شوہر کا خون: پی ٹی آئی کے خلاف گرینڈ آپریشن کے بعد اسلام آباد کے ہسپتالوں میں بی بی سی کی ٹیم کی گواہی
ایران کی مذمت
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں ایران کے ’دانستہ حملوں‘ کی مذمت کی گئی ہے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ ایران نے رہائشی علاقوں، شہری تنصیبات اور سفارتی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کو ’کسی بھی جواز‘ کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔بیان میں اقوامِ متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے دفاع کے حق پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مچل سٹارک کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
ایران سے مطالبات
اس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’فوری طور پر اپنے حملے بند کرے‘ اور بین الاقوامی قوانین اور ’اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں‘ کا احترام کرے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے متعلق ’اقدامات یا دھمکیوں‘ سے گریز کرے۔
اسرائیل کی جارحیت کی مذمت
بیان میں لبنان کے خلاف اسرائیل کی ’جارحیت‘ اور خطے میں اس کی مبینہ ’توسیع پسندانہ پالیسی‘ کی بھی مذمت کی گئی ہے۔








