ایران بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور عرب ممالک پر حملے بند کرے: ریاض میں وزرائے خارجہ اجلاس کا اعلامیہ جاری
عرب ممالک کا مشترکہ بیان
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن )عرب ممالک نے بدھ کے روز ریاض میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ایران کے حملوں کے ردِعمل میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں ایران کے ’دانستہ حملوں‘ کی مذمت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز ضرور کھلے گی لیکن آپ کے لیے نہیں، ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا ٹرمپ کو پیغام
اجلاس کی تفصیلات
بی بی سی اردو کے مطابق اس اہم اجلاس میں بحرین، کویت، لبنان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خطے کے دیگر ممالک کے نمائندے شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جن مسافروں کے پاس مستند اور مکمل سفری دستاویزات ہوں، انہیں بیرونِ ملک سفر سے نہیں روکا جانا چاہیے، وزیر داخلہ محسن نقوی
ایران کی مذمت
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں ایران کے ’دانستہ حملوں‘ کی مذمت کی گئی ہے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ ایران نے رہائشی علاقوں، شہری تنصیبات اور سفارتی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کو ’کسی بھی جواز‘ کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔بیان میں اقوامِ متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنے دفاع کے حق پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مری گلاس ٹرین منصوبے کے روٹ کو اسلام آباد ائیرپورٹ تک بڑھانے پر غور
ایران سے مطالبات
اس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ’فوری طور پر اپنے حملے بند کرے‘ اور بین الاقوامی قوانین اور ’اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں‘ کا احترام کرے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے متعلق ’اقدامات یا دھمکیوں‘ سے گریز کرے۔
اسرائیل کی جارحیت کی مذمت
بیان میں لبنان کے خلاف اسرائیل کی ’جارحیت‘ اور خطے میں اس کی مبینہ ’توسیع پسندانہ پالیسی‘ کی بھی مذمت کی گئی ہے۔








