بڑے سیلابی ریلے کے باعث زرعی املاک کو نقصان اور سڑکوں کی تباہی

مصنف: ع۔غ۔ جانباز

قسط: 91

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟

سروے کے دوران دلخراش واقعات

اس علاقے میں سروے کے دوران 2 اندوہناک واقعے ظہور پذیر ہوئے۔ پہلا دو ریل گاڑیوں کے درمیان تصادم دریا کے پل کے اُس پار ہوا جس میں بہت سی انسانی جانیں لقمہ اَجل ہوئیں اور ریلوے کا بھاری مالی نقصان ہوا۔ اس واقع پر علاقہ تو سوگوار تھا ہی، بلکہ سارے ملک میں اس کے اثرات محسوس کیے گئے۔

دوسرا ایک کافی بڑا سیلابی ریلا آیا جس نے مظفر گڑھ شہر اور گرد و نواح کے میلوں تک پھیلے ”جتوئی“ تک کے علاقے کو ڈبو دیا۔ اس سے زرعی املاک کو کافی نقصان پہنچا اور ساتھ ساتھ سڑکوں کی بھی کافی اکھاڑ پچھاڑ کر ڈالی۔ اس وجہ سے ہمیں بھی ”سروے“ کا کام کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: اس سال مینارِ پاکستان پر ہونے والی عالمی میلاد کانفرنس کے اخراجات سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی پر خرچ کیے جائیں گے: ڈاکٹر طاہر القادری

حب ڈیم کا سروے

کراچی کے نواح میں حب ڈیم بنانے کا پروگرام بنا تو یہ سوچ تو خود بخود معرضِ وجود میں آگئی کہ ڈیم سے جو پانی کا اخراج ہوگا، دوسری ضروریات کے علاوہ جن زرعی رقبوں کو سیراب کرے گا اُن کی زرعی حیثیّت کا پتہ چلایا جائے۔ اِس کام کے لیے واپڈا کے واٹر ونگ میں سوئیل سروے کا شعبہ پہلے ہی یہ کام پنجاب اور سندھ کے وسیع علاقوں میں کر چکا تھا۔

لہٰذا ایک سوئل سروے پارٹی کراچی کے لیے تیّار کی گئی اور بذریعہ ہوائی جہاز میں اور میرا ایک ساتھی کراچی پہنچ گئے۔ وہاں مزار ”منگھو پیر“ کے نزدیکی محلّے میں کرایہ کا مکان لیا اور پہلے سے کیے ایک فیصلہ کے طفیل 2 ٹرک حیدر آباد (واپڈا) نے کراچی بھیج دئیے۔

صبح سویرے اُٹھ کر ناشتہ کر کے بازار سے تلی ہوئی مچھلی اور نان ہر روز لے لیتے تاکہ دوپہر کو پیٹ پوجا کی جاسکے۔ لاہور کی نسبت وہاں مچھلی سستی تھی۔ اس لیے یہ بھی ایک وجہ تھی کہ ہر روز مچھلی اور نان پر تان ٹوٹتی۔

روانگی کے کچھ ہی عرصہ بعد ہم روزانہ ”منگھو پیر“ کے مزار کے پاس سے گزرتے اور اکثر کھڑے ہو کر وہاں تالاب میں تیرتے مگر مچھوں کو دیکھتے۔ مجاوروں کا کہنا تھا کہ یہ مگر مچھ پیر صاحب کی ”جوئیں“ تھیں جو اُنہوں نے جسم سے نکال کر پھینکیں تو وہ مگر مچھوں کا لبادہ اوڑھ کر پانی میں تیرنے لگیں اور عرصہ دراز سے اسی طرح وہاں محِو کار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

سروے کی تفصیلات

حب ڈیم ایریا میں پہنچ کر "Aerial Photographs Sheets" کی مدد سے سروے کرتے، زمین کی مجوزہ اِقسام کے تعین کے لیے 10 فٹ تک زمین میں Auger کے ذریعے ”لیبر“ سے بور کرواتے اور سوئیل کیٹگریز رجسٹر میں درج کرتے۔ اس کے علاوہ Hcl ڈال کر زمین میں موجود Salt کا ریکارڈ کرتے۔ مزید وہاں کی Vegetation کا ریکارڈ بھی کیا جاتا۔ دوپہر کو وقفہ کے دوران مچھلی اور نان سے پیٹ پوجا کرتے۔ کچھ دیر سستانے کے بعد پھر دن کا کام مکمل کر کے واپسی پر اُسی کرائے کے مکان میں جا ٹھہرتے۔

یا د رہے، ہم شام کو پیٹرول ڈلوا کر ٹرک کھڑے کر دیتے۔ ایک دن جب ہم حسب معمول تیار ہو کر وہاں سائٹ پر پہنچے تو ایک ٹرک ڈرائیور نے کہا کہ جناب پیٹرول ختم ہوگیا ہے۔ خیر پیٹرول کا بندوبست کیا اور کام مکمل کر کے واپس اپنی رہائش پر آگئے۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...