رات کو جستجو ہوئی کہ پتہ چلایا جاسکے کہ ٹرک کا پیٹرول کیسے ختم ہوگیا، جون کا مہینہ تھا، تھل تھا، جس کسی کو پانی کی طلب ہوتی جب کام ہورہا ہوتا تو پانی پی لیتا۔

مصنف: ع۔غ۔ جانباز

قسط: 92

رات کو جستجو ہوئی کہ پتہ چلایا جاسکے کہ اِس ٹرک کا پیٹرول کیسے ختم ہوگیا تو پتہ چلا کہ رات کو ٹرک کے پاس ایک ٹیکسی کھڑی تھی۔ ڈرائیور نے پیٹرول اُس کو بیچا تھا۔ چنانچہ اُس ڈرائیور کو فوراً حیدر آباد روانہ کردیا اور دوسرا ڈرائیور آگیا۔

کراچی کی سیر

وہاں کراچی میں ایک چچا زاد نوجوان عبد الخالق وہاں نیوی میں آفیسر تھا۔ اُس کی بیوی بھی چچا زاد بہن تھی اور بچے بھی تھے۔ اُن کے ہاں جب جاتے تو خاطر تواضع کے علاوہ وہاں کراچی کی سیر سے بھی لطف اندوز ہوتے۔ ساحل سمندر سے بھی شناسائی کی۔

حب ڈیم کا سروے

3 ماہ میں حب ڈیم کا سروے مکمل کر کے بذریعہ ٹرین لاہور میں آکر دفتر میں حب ڈیم سروے کی رپورٹ تیار کر کے داخل دفتر کردی۔

نوکری اور جان کے لالے

”واپڈا میں قائم“ گراؤنڈ واٹر ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن“ سکیم کے تحت لیے گئے ”ایریل فوٹو گرافس“ کی مدد سے یہ جون کی 13 تاریخ تھی جب ہم پنجاب کے سر سبز و شاداب، ”سیم زدہ“ اور کچھ ”واٹر لوگڈ“ علاقوں کے سروے کے اختتام پر اب گریٹر تھل میں اپنی سائنسی معلومات میں اضافہ کی غرض سے زمین کی چھان بین کے لیے قدم رنجہ فرما رہے تھے کہ یہ ہماری نوکری کا ہی تقاضا تھا۔

فیلڈ پارٹی کی تشکیل

اِس پارٹی میں راقم الحروف عبد الغفور جانبازؔ ہم رینک ایک دوسرا میرا ہم رینک اور 4 عدد لیبر کے آدمی جن میں ہر ایک کے سر پر پانی کا ایک گھڑا تھا اور ساتھ زمین میں بور کر کے مٹی نکالنے والا "Auger" اور ساتھ کپڑے کی تھیلیاں جن میں مٹی کے سیمپل لیے جاتے تھے اور ساتھ ایک کٹ جس میں کیمیکلز تھے جن کی مدد سے زمین میں موجود مضر اَجزاء کا اندراج فیلڈ رجسٹر میں کیا جاتا تھا۔

سروے کا طریقہ کار

ریسٹ ہاؤس سے روانگی سے قبل دن میں جو کام کرنا ہوتا تھا۔ وہ فوٹو گرافس کے ایک بڑے نقشے پر دیکھتے کہ ہم نے ”ائیرئیل فوٹو گرافس“ کی کون کون سی شیٹ لے کر جانی ہے اور وہاں جو فاصلہ طے کرنا ہے وہ طے کرلیا جاتا تھا۔ اُن دن پروگرام میں جو نقشہ پیش نظر تھا وہ تھا کہ سڑک پر گاڑی پارک کر کے 4 میل اندر سیدھ میں سروے کرتے جائیں گے پھر دائیں مڑیں گے اور دو میل سروے کر کے پھر دائیں مڑ کر 4 میل واپسی کا سفر سروے میں گزار کر جب سڑک پر آئیں گے تو ڈرائیور کو حسب ہدایت وہاں گاڑی لیے کھڑا پائیں گے۔

دن بھر کی محنت

سارے دن میں تقریباً 16 جگہوں پر 10 فٹ کی گہرائی تک بور کیا جاتا تھا اور ہر جگہ بور کرنے اور اُس کی تفصیل کے فیلڈ رجسٹر میں اندراج میں آدھا گھنٹہ صرف ہوتا تھا۔ اس میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پیدل جانے کا وقفہ بھی شامل ہے۔ قصّہ مختصر یہ کہ ہر روز تقریباً 8 گھنٹے فیلڈ میں کام کرتے تھے اور پھر واپس ریسٹ ہاؤس میں آکر سستانے کے بعد وہاں اکٹھے کیے مٹی کے سیمپلز کی Inventory بناتے اور سیمپلز کو بیگز میں ڈال کر سکھ کا سانس لیتے۔

تھل میں قدم رکھنا

یہ فیلڈ پارٹی تقریباً 8 بجے تھل میں قدم رکھ چکی تھی اور پُر جوش تھی۔ ایرئیل فوٹو گراف پر پہلے سے ریسٹ ہاؤس میں لگائے گئے نشان پر لیبر کے آدمی سر پر سے پانی کے گھڑے اُتار کر بور کرنے لگے اور ایک ایک فٹ کے مٹی کے سیمپل زمین پر ترتیب سے رکھتے چلے گئے۔ سب مٹی کے سیمپلز کا اندراج، مٹی کی مروجہ اقسام بنام ”جھنگ“ بُچیانہ، ”چوہڑ کانہ“ ”نوکھر“ کے نام سے کیا جاتا۔

مٹی کے سیمپلز کا اندراج

فیلڈ آفیسر ان سب کا اندراج کر کے پھر ٹیسٹنگ کٹ کی مدد سے دس فٹ تک لگائے گئے سیمپلز پر HCL ڈال کر روزنامچے کے فیلڈ رجسٹر میں اِن سے اُٹھنے والے پرفیومزکا اندراج کرتا۔ اب پھر لیبر کے سر پر پانی کے گھڑے تھے اور د وسرا سامان اور سبھی پارٹی ممبران دوسرے ”بور“ کی سیدھ چلتے گئے اور وہاں جا ٹھہرے اور وہی سلسلہ دوبارہ وہاں شروع کردیا۔ وہاں جو ساری تفصیلات فیلڈ رجسٹر میں درج ہوئیں تو پارٹی پھر اگلے نشان زدہ Spot کی طرف چل دی۔ جون کا مہینہ تھا، تھل تھا، جس کسی کو پانی کی طلب ہوتی جب وہاں کام ہورہا ہوتا تو پانی پی لیتا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...