جنگ ہم پر مسلط کی گئی، دفاعی اقدامات کر رہے ہیں، جب تک ضروری ہوگا اپنی حفاظت جاری رکھیں گے: عباس عراقچی
ایران کی جنگ کی حقیقت
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ یہ ہماری جنگ نہیں، یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ ہم دفاعی اقدامات کر رہے ہیں، اور جب تک ضروری ہوگا ہم اپنی حفاظت جاری رکھیں گے۔ لگتا نہیں کہ امریکہ اپنی جارحیت ختم کرنے کے لیے تیار ہے، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے صرف جنگ بندی کافی نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے 300 یونٹ ماہانہ تک کے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز لگادیے۔
مذاکرات کی صورت حال
جاپانی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے، یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی۔ ہم امریکہ سے مذاکرات کر رہے تھے جب امریکہ اور اسرائیل نے ہم پر حملہ کیا۔ امریکی اور اسرائیلی اقدام غیر قانونی، بلاجواز اور بلااشتعال جارحیت کا عمل ہے۔ ہم دفاعی اقدامات کر رہے ہیں، اور جب تک ضروری ہوگا ہم اپنی حفاظت جاری رکھیں گے۔ ہمیں جنگ بندی قبول نہیں کیونکہ ہم گزشتہ سال والا منظرنامہ دوبارہ دہرانے کے حق میں نہیں ہیں۔ جنگ کو مکمل اور مستقل طور پر ختم ہونا چاہیے، اس بات کی ضمانت ہونی چاہیے کہ یہ صورتحال دوبارہ پیدا نہیں ہوگی۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز گزرگاہ کھلی ہوئی ہے، ہم نے بند نہیں کی۔ آبنائے ہرمز صرف دشمنوں سے تعلق رکھنے والے جہازوں کے لیے بند ہے۔ آبنائے ہرمز ان ممالک کے لیے بند ہے جو ہم پر حملے کر رہے ہیں، جبکہ دوسرے ممالک کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ ہم رابطہ کرکے ہم سے بات کرنے والے ممالک کو آبنائے ہرمز کا محفوظ راستہ دینے کو تیار ہیں۔








