مشرقِ وسطیٰ میں زبردستی معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف
روس کے وزیرِ خارجہ کا بیان
ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک) روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں زبردستی معاہدے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری کی دوسری کوشش، نجکاری کمیشن کو 8 فریقین سے اظہار دلچسپی کی درخواستیں موصول
روس کی دفاعی صلاحیتیں
سرگئی لاروف نے اپنے بیان میں کہا کہ روس کے پاس مضبوط فوجی اور جدید دفاعی صلاحیت موجود ہے، جبکہ دنیا ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف واپس جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افسر کم اور غنڈے زیادہ لگتے ہیں
امریکہ پر الزامات
’’جنگ‘‘ کے مطابق سرگئی لاروف نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ صرف اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے اور تیل کے لیے وینزویلا اور ایران میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یورپ کو سستی توانائی سے محروم کیا جا رہا ہے، جبکہ ہنگری اور سلوواکیہ سستی توانائی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طلاق کی افواہیں، مشیل اوبا کا موقف آگیا
بین الاقوامی تعلقات میں پیچیدگی
یوکرین معاملے پر امریکہ مزید رعایتیں چاہتا ہے، جبکہ یورپ نوآبادیاتی طرز کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا نقصان بالآخر کمزور ممالک کو اٹھانا پڑتا ہے۔
کشیدگی کا اثر
سرگئی لاروف کے مطابق عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی بین الاقوامی نظام کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔








