امریکہ سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، ایران
ایران کا واشنگٹن کے ساتھ گفتگو سے انکار
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی مکالمہ جاری نہیں۔ ایرانی حکام نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا عندیہ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: برکس اجلاس میں بھارت کو سفارتی محاذ پر ایک اور ناکامی کا سامنا، اعلامیہ میں کیا شامل نہ کروا سکا؟ جانیے
ٹرمپ کے بیانات کا جائزہ
ایرانی وزارتِ خارجہ کے حوالے سے سرکاری میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات دراصل توانائی کی عالمی قیمتوں کو نیچے لانے اور ممکنہ فوجی منصوبہ بندی کے لیے وقت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق اس قسم کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علاقائی صورت حال کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان میں اتفاق
خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں
خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ خطے کے بعض ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف “اقدامات” اور تجاویز ضرور سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم ایران نے ان تمام کوششوں کے جواب میں واضح کر دیا ہے کہ وہ اس جنگ کا آغاز کرنے والا فریق نہیں ہے۔
ایران کا مؤقف
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے سے متعلق تمام مطالبات اور تجاویز واشنگٹن کو بھیجی جانی چاہئیں، کیونکہ اصل ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔ ایران نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاع اور خودمختاری کے معاملے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔








