امریکہ، اسرائیل اور ایران کشیدگی، پاکستان کا اہم ثالثی کردار، آرمی چیف کی ٹرمپ اور وزیراعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو
پاکستان کی ثالثی کی پیشکش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور کشیدگی کو ختم کروانے کے لیے ایک مرکزی ثالث کے طور پر خود کو پیش کیا ہے۔ پاکستان اس مقصد کے لیے تہران کے ساتھ اپنے مضبوط عسکری روابط اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے خوشگوار تعلقات کو استعمال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عظیم صوفی بزرگ داتا علی ہجویریؒ کے 3 روزہ عرس کی تقریبات کا آغاز، 15 اگست کو مقامی تعطیل کا اعلان
اہم ٹیلیفونک رابطے
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے اتوار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جبکہ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے پیر کے روز ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے تفصیلی مذاکرات کیے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کی ایپکس کمیٹی کا کرم میں تمام بنکرز اور بھاری اسلحہ ختم کرنے کا فیصلہ
ٹرمپ کی دھمکیوں کا مؤخر ہونا
پاکستانی اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس کو "تباہ" کرنے کی اپنی دھمکی کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو "انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز" قرار دیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی
پاکستان کی ان سفارتی کوششوں اور ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے ان مذاکرات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے، تاہم ماہرین اسے خطے میں امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں。








