4سال سے لاپتہ لڑکی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع
لاپتہ لڑکی کی بازیابی کے لیے درخواست
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی جی پنجاب عبدالکریم نے 4سال سے لاپتہ لڑکی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرادی۔ عدالت نے پنجاب بھر سے بچیوں کے اغوا کے کیسز کی رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اغوا کیسز میں تفتیشی افسران کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی جائے، عدالت نے آئی جی پنجاب سے 15دن میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ایکس پوسٹس غیرقانونی قرار دینے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق 4سال سے لاپتہ لڑکی کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب عبدالکریم نے رپورٹ پیش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، سعودی وزارت خارجہ کا اہم بیان آگیا
آئی جی پنجاب کی رپورٹ
آئی جی پنجاب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکی کو 2022میں قتل کردیا گیا۔ ملزم اب جسمانی ریمانڈ پر ہے۔ سی ڈی آر سے پتہ چلا ملزم محسن سے بچی کا رابطہ تھا۔ لڑکی گھر میں ملازمہ تھی، مالک کے داماد کا ریمانڈ لیا گیا۔ ملزم نے بچی کو قتل کرکے لاش نالے میں پھینک دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: پوتوں کی لڑائی چھڑوانے کے دوران فائرنگ سے 85 سالہ دادا جاں بحق
چیف جسٹس کے سوالات
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ کیا بچی کی لاش کسی تھانے والوں نے امانتاً دفن کی؟ چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ اس کیس کو ثابت کرنے میں کتنے سال لگے؟ آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ کیس کو ثابت کرنے میں 4سال لگے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پولیس کا ریلوے اسٹیشنز اور سرکاری عمارتوں کی ویڈیوز بنا کر پاکستان میں ہینڈلرز کو بھیجنے کے الزام میں 3 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ
تفتیشی افسران کی کارکردگی
عدالت نے کہا کہ ایسے تفتیشی افسران کو کیس کیوں دیتے ہیں جو سالہا سال گزار دیتے ہیں؟ کیس تھانے جاتا ہے تو تفتیشی کا رویہ یہی ہوتا ہے کہ بچی خود گئی ہوگی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ محنتی تفتیشی افسران تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔ ماضی کا ریکارڈ دیکھ کر افسران کو تفتیش دیا کریں۔
مزید رپورٹ کی درخواست
عدالت نے پنجاب بھر سے بچیوں کے اغوا کے کیسز کی رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اغوا کیسز میں تفتیشی افسران کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی جائے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب سے 15دن میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔








