موجودہ کشیدگی پیٹرو ڈالر کے لیے خطرہ ہے، ڈوئچے بینک
برلن کی رپورٹ: عالمی مالیاتی نظام کے لیے چیلنجز
جرمن مالیاتی ادارے ڈوئچے بینک کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی عالمی مالیاتی نظام کے لیے ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جو توانائی کی تجارت اور عالمی ذخائر میں امریکی ڈالر کی بالادستی کو کمزور کرنے کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کچن میں کھانا بناتی ہوئی حاملہ خاتون پر مگر مچھ کا حملہ، گھسیٹ کر دریا میں لے گیا
ملیکہ سچدیوا کی تنبیہ
بینک کی اسٹریٹجسٹ ملیکہ سچدیوا نے ایک سخت لہجے میں لکھے گئے نوٹ میں کہا کہ یہ جنگ “پیٹروڈالر کے لیے ایک مکمل طوفان” بن سکتی ہے، جو کئی دہائیوں سے قائم اس نظام کو خطرے میں ڈال رہی ہے جس نے عالمی سطح پر ڈالر کی برتری کو سہارا دیا۔ ان کے مطابق ایران تنازع ڈالر کے لیے طویل المدتی طور پر اس لحاظ سے اہم ہو سکتا ہے کہ یہ پیٹروڈالر نظام کی بنیادوں کو آزمائے گا، اور اگر ان میں دراڑیں گہری ہوئیں تو اس کے عالمی تجارت، بچت اور ریزرو کرنسی کے ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بعض علاقوں میں موبائل فون سروس معطل
پیٹروڈollar نظام کی بنیادیں
1974 میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد سے خام تیل تقریباً مکمل طور پر ڈالر میں قیمت لگایا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا مالیاتی چکر قائم ہوا جس میں ممالک ڈالر کماتے، محفوظ رکھتے اور پھر امریکی اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہی پیٹروڈالر نظام طویل عرصے سے ڈالر کو عالمی ریزرو کرنسی کا درجہ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ؛ پادری کے قتل کا ڈراپ سین، بیوی اور آشنا ماسٹر مائنڈ نکلے
تبدیلی کے آثار
تاہم رپورٹ کے مطابق اب اس نظام کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا ہے۔ دنیا بڑی حد تک اس لیے ڈالر میں بچت کرتی ہے کیونکہ عالمی ادائیگیاں بھی ڈالر میں ہوتی ہیں، اور تیل کی مرکزی حیثیت کے باعث عالمی سپلائی چینز پہلے ہی ڈالرائز ہو چکی ہیں۔ لیکن موجودہ تنازع سے پہلے ہی تبدیلی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ مشرق وسطیٰ کے تیل کی طلب اب زیادہ تر ایشیا سے آ رہی ہے، جبکہ چین اپنی کرنسی یوآن میں تجارت کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد ناصر اقبال خان اینٹی نارکوٹکس پنجاب کے اعزازی سفیر مقرر
سعودی عرب کا چین کی طرف جھکاؤ
رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ سعودی عرب اب امریکہ کے مقابلے میں چین کو چار گنا زیادہ تیل برآمد کر رہا ہے، جو توانائی کی جغرافیائی سیاست میں ایک بڑی ساختی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، اور جنگ اس تبدیلی کو مزید تیز کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بھی شدید گرمی متوقع، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا
سیکیورٹی کے خطرات
موجودہ تنازع نے ایک اور بڑا خطرہ پیدا کر دیا ہے، جو سیکیورٹی سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ پیٹروڈollar نظام صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ خلیجی تیل کی ترسیل کے لیے امریکی عسکری تحفظ پر بھی مبنی تھا، لیکن اب اس مفروضے کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقتولین کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، خاتون کے 5 بچے ہیں؛ وزیراعلیٰ بلوچستان
ایران کی可能ہ حکمت عملی
رپورٹ کے مطابق ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایران یوآن میں ادائیگی کے بدلے تیل کی ترسیل کی اجازت دے، جو ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منیب بٹ کا ’’قربانی کا اونٹ‘‘ بھاگ گیا، مداحوں سے خاص اپیل
اقتصادی تبدیلی کے اثرات
ڈوئچے بینک نے ایک ایسے ممکنہ مستقبل کی نشاندہی کی ہے جہاں تیل کی منڈیاں جغرافیائی سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہو جائیں، یعنی مشرق وسطیٰ کی تجارت یوآن میں اور مغربی ممالک کی تجارت ڈالر میں ہو۔ اس طرح کی تقسیم ڈالر کی سب سے بڑی طاقت، یعنی اس کے عالمی نیٹ ورک اثرات کو کمزور کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیلم جہلم پراجیکٹ کی بار بار بندش سے سالانہ کتنا نقصان ہورہا ہے؟ تہلکہ خیز انکشاف
خلیجی ممالک کی حکمت عملی
اسی دوران خلیجی ممالک، جن کے پاس تقریباً 8 ٹریلین ڈالر کے ذخائر اور خودمختار فنڈز موجود ہیں، جنگی دباؤ کے باعث اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے ڈالر اثاثے فروخت کرنا شروع کر سکتے ہیں، جس سے عالمی سطح پر ڈالر کی گردش مزید کم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درپیش چیلنجز سے نپٹنے کے لیے برازیل میں COP30 کا انعقاد
ماحولیاتی توانائی کی طرف رجحان
بینک کے مطابق سب سے بڑا خطرہ صرف کرنسی کی تبدیلی نہیں بلکہ توانائی کے شعبے میں بنیادی تبدیلی ہے۔ اگر دنیا تیل پر کم انحصار کرنے لگتی ہے تو ڈالر کی ضرورت بھی خود بخود کم ہو جائے گی۔
خلاصہ
اگرچہ ایران تنازع فوری طور پر ڈالر کی حکمرانی کا خاتمہ نہیں کرے گا، لیکن یہ اس نظام کو ضرور کمزور کر سکتا ہے جس نے ڈالر کی برتری کو ناگزیر بنا رکھا تھا۔ یوآن میں تیل کی تجارت، توانائی کی خود کفالت اور بدلتے عالمی اتحاد اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ایک سست مگر فیصلہ کن تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔








