آپ نے نہ کہہ کر بھی سب کچھ کہہ دیا ہے، سرکاری وکلا کے لیے بھی مسنگ پرسنز کے مقدمے کا دفاع کرنا بہت مشکل ہے، جسٹس محسن اختر کیانی کا وکیل درخواست گزار سے مکالمہ
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری کی بازیابی سے متعلق کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل درخواستگزار سے مکالہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے نہ کہہ کر بھی سب کچھ کہہ دیا ہے، سرکاری وکلا کیلئے بھی مسنگ پرسنز کے مقدمہ کا دفاع کرنا بہت مشکل ہے، جو دہشتگرد ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کی سیاسی جماعتوں کو گوشوارے 29 اگست تک جمع کرانے کی ہدایت
دیکھنے میں آیا گیا حکم امتناعی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ شہری کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ وفاقی آئینی عدالت نے حکم امتناعی جاری کردیا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ امید ہے وفاقی آئینی عدالت مسنگ پرسنز کو بازیاب کروا لے گی، آئینی عدالت کے مطابق ہائیکورٹ نے جو فیصلہ دیا وہ غلط ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اکلوتا بیٹا، دو بچوں کا باپ ہوں، والد کی وفات کے بعد گھر والوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں، جعلی پرچوں کا نشانہ ہوں” حماد اظہر کا جذباتی پیغام
وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی وضاحت
وکیل درخواست گزار نے کہاکہ وفاقی آئینی عدالت نے نوٹس جاری کیا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ اس عدالت کی کارروائی معطل ہو گئی ہے، آرڈر ہو گیا ہے، آپ نے وفاقی آئینی عدالت جا کر ان کو اپنا کیس پیش کرنا ہے، آئینی عدالت کے مطابق مسنگ پرسنز کو بازیاب کرانا ہائیکورٹ کا اختیار نہیں، اب وفاقی آئینی عدالت مسنگ پرسنز کو بازیاب کرائے گی، اس عدالت کو وفاقی آئینی عدالت کے خیالات کا احترام کرنا ہوگا۔
عدالتوں کی اہمیت
وکیل درخواست گزار نے کہاکہ عدالتیں ہی آخری امید ہوتی ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ کیس کو 10 سال ہو گئے ریاستی ادارے آج تک کچھ نہیں بتا سکے، وکیل درخواست گزار نے کہاکہ میں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاتھا کہ آپ نے نہ کہہ کر بھی سب کچھ کہہ دیا ہے، سرکاری وکلا کیلئے بھی مسنگ پرسنز کے مقدمہ کا دفاع کرنا بہت مشکل ہے، جو دہشتگرد ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔








