لاہور ہائی کورٹ نے بابراعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، تحریری فیصلہ جاری

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹر بابراعظم کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کے لیے ضروری سامان اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا

درخواست کی منظوری

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے بابر اعظم کی اندراج مقدمہ کے خلاف دائر درخواست منظور کرلی۔ بابر اعظم نے درخواست میں جسٹس آف پیس کے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل انتظامیہ نے عمران خان کی 2 سالہ میڈیکل ہسٹری عدالت میں پیش کردی

تحریری فیصلہ

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے اور مقدمے کا ریکارڈ بھی تفصیل سے دیکھا۔ خاتون کے الزامات بظاہر قابلِ یقین نہیں، آٹھ سال تک خاموش رہنا غیر معمولی صورتحال ہے، اتنے طویل عرصے بعد الزام سامنے آنا سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دسمبر 1968ء تک انڈیا سے صرف دلاسہ ملا کہ صبر کریں انتظار کریں، میں نے بالآخر والد صاحب سے کہہ دیا اب آپ اپنی خوشی کر سکتے ہیں

مقدمہ درج کرنے کا حکم

فیصلے میں کہا گیا کہ صرف شادی کے وعدے کا دعویٰ تاخیر کو جواز فراہم نہیں کرتا، ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے، الزامات کی تائید کے لیے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے مناسب جانچ کے بغیر حکم جاری کیا، جسٹس آف پیس کا مقدمہ درج کرنے کا حکم قانون کے مطابق نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: عمان کے خلاف سری لنکا کی بیٹنگ جاری

خاتون کا الزام

جسٹس آف پیس نے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔ خاتون نے درخواست گزار بابر اعظم پر شادی کا جھانسہ دے کر تعلقات قائم کرنے کا الزام لگایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز پنجاب کی تقدیر بدلنے جا رہی ہیں: عظمیٰ بخاری

تحقیقات اور دلائل

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بابر اعظم کی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: ہوائی جہازوں کے لئے خطرہ بننے والے 20 چیلوں اور 30 کوؤں کے گھونسلے ہٹا دیئے گئے

اختلافات اور الزامات

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان طویل عرصے تک تعلقات رہے۔ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ تعلقات تقریباً آٹھ سال تک جاری رہے۔

خاتون کے مطابق اس دوران وہ 2015 میں حاملہ بھی ہوئی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ بعد میں اس کا حمل ضائع کروا دیا گیا۔

خاتون کے مطابق درخواست گزار نے اس سے بڑی رقم بھی حاصل کی۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ بعد میں درخواست گزار نے شادی سے انکار کر دیا۔

جواب دہی کے عمل

فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس آف پیس نے خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔

Categories: قومی

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...