چین نے امریکی ٹیرف کے جواب میں اقدامات شروع کردیے
چین کی نئی تحقیقات کا آغاز
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حال ہی میں عائد کیے گئے ٹیرف کے جواب میں 2 تحقیقات شروع کی ہیں۔ یہ اقدامات مئی میں طے شدہ ٹرمپ کے دورہ چین سے پہلے بیجنگ کی طرف سے اپنے موقف کی نشاندہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، جو احتجاج کے لیے آئے گا گرفتار ہوگا، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ
تحقیقات کا مقصد
نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق چین کی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات امریکا کی پالیسیوں اور ٹیرفز کے اثرات کا جائزہ لیں گی تاکہ چین کی متعلقہ صنعتوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ وزارت نے کہا کہ تحقیقات صدر ٹرمپ کی سیکشن 301 تحقیقات کے جواب میں کی جا رہی ہیں اور اس کے ذریعے چین نے اپنی ’مضبوط مخالفت‘ ظاہر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہوچکا، وفاقی وزیر خزانہ
تحقیقات کی نوعیت
تحقیقات میں سے پہلی امریکی پابندیوں کا جائزہ لیا جائے گا، جو چینی مصنوعات کی امریکا میں آمد اور اعلیٰ ٹیکنالوجی مصنوعات کی برآمدات پر اثر انداز ہورہی ہیں۔ دوسری تحقیق چین کی گرین انرجی مصنوعات کی برآمدات میں رکاوٹوں کا تجزیہ کرے گی۔ وزارت کے مطابق یہ تحقیقات 6 ماہ میں مکمل ہوں گی اور ضرورت پڑنے پر تین ماہ کے لیے بڑھائی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا پاکستان میں اشتہارات کا AI اوور ویوز فیچر متعارف کرانے کا اعلان
اقتصادی تعلقات پر اثر
چین کے تجارتی نمائندے نے پچھلے ہفتے پیرس میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں خبردار کیا کہ یہ تحقیقات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ ابھی تک چین نے امریکا پر کوئی جوابی ٹیرف عائد نہیں کیا، بلکہ تحقیقات کا مقصد اپنی صنعتوں کے مفادات کا تحفظ اور مذاکرات میں مضبوط موقف اختیار کرنا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق یہ تحقیقات طویل تجارتی تنازع میں چین کی ایک حکمت عملی ہے، جس کے بعد چین فیصلہ کرے گا کہ آیا امریکا کے ٹیرفز کے جواب میں کوئی عملی قدم اٹھانا ہے یا نہیں۔ اس وقت یہ تحقیقات فی الحال جائزہ لینے اور معلومات جمع کرنے کے لیے شروع کی گئی ہیں اور براہِ راست کسی مصنوعات کی قیمت یا درآمد پر اثر نہیں ڈالیں گی، لیکن مستقبل میں یہ تجارتی پالیسی پر اثر ڈال سکتی ہیں۔








