ایف پی سی سی آئی کا ایران، وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات پر ایل سی شرط میں عارضی استثنیٰ کا خیرمقدم
ایران کے ذریعے برآمدات کے لیے بینک گارنٹی کی شرط میں عارضی استثنیٰ
لاہور (پ ر) بزنس مین پینل پروگریسیو (بی ایم پی پی) کے چیئرمین اور فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے ایران کے راستے برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کی شرط میں عارضی استثنیٰ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے برآمدکنندگان کے لیے ایک مثبت اور بروقت اقدام قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے میں ناکام رہی : بھارتی اپوزیشن جماعت کے رہنما کا اعتراف
مالیاتی دستاویزات سے عارضی استثنیٰ کی منظوری
حکومت نے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات کے لیے مالیاتی دستاویزات سے عارضی استثنیٰ کی منظوری دی ہے جس کے تحت اب ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کو زمینی راستوں کے ذریعے برآمدات کی اجازت ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے انتشار پھیلایا تو 26 نومبر سے زیادہ سخت ایکشن ہوگا: طلال چودھری
سرحدی تجارت کا فروغ
انہوں نے وزیر تجارت جام کمال سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف برآمدی عمل کو آسان بنائے گا بلکہ سرحدی تجارت کو بھی فروغ دے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق سری لنکن ٹیسٹ کرکٹر ڈی ایس ڈی سلوا چل بسے
خام مال کی درآمد کے لیے اقدامات
ثاقب فیاض مگوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایران سے صنعتی خام مال خصوصاً پیٹرو کیمیکلز کی درآمد کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے سستا خام مال دستیاب ہونے کی صورت میں پاکستانی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی عوام جمہوریت کو سراہتے ہیں لیکن نظام کی کارکردگی سے مطمئن نہیں
پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی قوت
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مقامی اور عالمی مارکیٹ میں پیٹروکیمیکلز کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں، جس کے باعث صنعتکار شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر ایران سے کم قیمت پر یہ خام مال درآمد کیا جائے تو نہ صرف صنعتوں کو ریلیف ملے گا بلکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں قیمت کے لحاظ سے زیادہ مسابقتی ہو سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کی تنظیم ایلیٹ کی جانب سے عید ملن تقریب، خواتین کی بھرپور شرکت
برآمدات میں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر کی مضبوطی
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیداواری لاگت میں کمی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا جو زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تجارتی روابط میں وسعت
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ایران کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید وسعت دے کر صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے۔ ثاقب فیاض مگوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بزنس کمیونٹی کی تجاویز کو سنجیدگی سے لے گی اور ایسے اقدامات کرے گی جو نہ صرف صنعتوں کو مضبوط کریں بلکہ ملک کو برآمدات کے میدان میں بھی آگے لے جائیں۔







