ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام خط لکھ دیا۔۔۔ کیا لکھا ؟ آپ بھی جانیے
ایران کے صدر کا امریکی عوام کے نام خط
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام خط لکھ دیا۔
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، ایرانی صدر نے پیغام میں کہا کہ عام ایرانی امریکی عوام کے خلاف کوئی دشمنی نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں ترمیم، سینیٹ سے منظوری کے بعد بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا
ایران کو خطرے کے طور پر پیش کرنے کا تنقید
ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خط میں ایران کو خطرے کے طور پر پیش کرنے کو تاریخی حقائق کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حقائق سے بھی ایران کو خطرے کے طور پر پیش کرنا غیر حقیقی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنا دراصل طاقتور قوتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا نتیجہ ہے، تاکہ اسلحہ کی صنعت جاری رکھی جا سکے اور سٹریٹجک منڈیوں پر کنٹرول قائم رکھا جا سکے۔ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر حملہ حقیقت میں ایرانی عوام کو نشانہ بنانا ہے، اور ایسے اقدامات کے اثرات ایران کی سرحدوں سے باہر تک پہنچتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سلپَر لکڑی کے مضبوط اور بھاری شہتیروں کی شکل میں استعمال ہوتے تھے، ڈیڑھ سو برس گزر جانے کے بعد بھی ان میں سے اکثر پوری طرح کارآمد ہیں
جنگ کی تاریخ اور ایران کا کردار
امریکا کے عوام کے نام اپنے خط میں، ایرانی صدر نے مزید لکھا کہ ایران انسانی تاریخ کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے، اور اس نے جدید تاریخ میں کبھی بھی جارحیت یا تسلط پسندی کا انتخاب نہیں کیا۔ ایران نے کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کیا، لیکن اس نے مسلط کی جانے والی جنگوں کا بہادری سے جواب ضرور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجاش نیازی اور لاہور پولیس میں تنازعہ شدت اختیار کر گیا
اسرائیل اور ایرانی خطرہ
ایرانی صدر نے خط میں سوال اٹھایا: کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکہ اس جارحیت میں اسرائیل کے نمائندے کے طور پر شامل ہوا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرتا ہے تاکہ فلسطینیوں کے خلاف اقدامات سے توجہ ہٹا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ، سوئٹزرلینڈ نے بڑی پیشکش کردی
مذاکرات اور ذمہ داریاں
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے مذاکرات کیے، معاہدہ کیا اور اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کیں۔ معاہدے سے نکلنے اور کشیدگی بڑھانے کے فیصلے امریکی حکومت کے تھے۔ مذاکرات کے دوران ہی دو مرتبہ جارحیت کرنے کے فیصلے بھی امریکی حکومت کے تھے، اور ایسے فیصلے ایک بیرونی جارح کی خواہشات کی تکمیل کے لیے کیے گئے۔
دعوت برائے بات چیت
ایرانی صدر نے خط میں لکھا کہ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ غلط معلومات کے نظام سے آگے نکلیں۔ اُن لوگوں سے بات کریں جو ایران جا چکے ہیں۔








