پی اے ایف مسرور بیس پر حملے کی بڑی سازش ناکام بنادی گئی
اہم پیشرفت: دہشت گردی کی سازش ناکام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایک اہم پیشرفت کے تحت ملک کی سرکردہ انٹیلی جنس ایجنسی نے دہشت گردی کی ایک بڑی سازش کو ناکام بنا دیا ہے جس کا مقصد کراچی میں سٹریٹجک لحاظ سے اہم سمجھی جانے والی مسرور ایئر بیس پر خطرناک حملہ کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ژوب میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4روز میں بھارتی حمایت یافتہ 50 خوارج ہلاک
ماسٹر مائنڈ کی شناخت
نجی ٹی وی جیو نیوز نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس منصوبے کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروپ فتنہ الخوارج کا ایک کمانڈر ہے جو اس گروپ کے خطرناک خودکش بمباروں کی قیادت کرتا ہے۔ اس سازش میں 9 انتہائی تربیت یافتہ دہشت گرد شامل تھے جن میں سے 5 افغان شہری تھے جن کی قیادت فتنہ الخوارج کا ایک ہائی پروفائل کمانڈر ہے جو پہلے ہی دہشت گردی کے کئی مقدمات میں مطلوب ہے۔ یہ دہشت گرد حال ہی میں دراندازی کرکے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کا جلسہ کامیاب نہیں ہونا، اس کو کامیاب کرنے کے لئے وادی تیراہ واقعہ پر سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، حسن ایوب کا تجزیہ
حملے کی منصوبہ بندی
یہ لوگ ایک طے شدہ مقام پر ایئربیس میں دراندازی کرکے داخل ہونے، اس پر قبضہ کرنے، طیاروں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے اور ایئربیس کو زیادہ سے زیادہ دیر تک اپنے قبضے میں رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا اور موت تک ایک طویل بندوق بردار لڑائی کرنا تھا۔ یہ آپریشن مبینہ طور پر افغانستان میں مقیم فتنہ الخوارج کی اعلیٰ قیادت کی براہ راست نگرانی میں کیا گیا تھا اور اس میں تقریباً 13 ماہ کی منصوبہ بندی شامل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: یوم شہادت حضرت علیؓ پر سخت سکیورٹی انتظامات، 30 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں: عظمیٰ بخاری
انٹیلی جنس ایجنسی کی کارروائی
دہشتگردوں نے ایئربیس کے قریب رہائش اختیار کر رکھی تھی اور علاقے کی وسیع پیمانے پر جانچ پڑتال (ریکی) کی تھی تاہم انٹیلی جنس ایجنسی ان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔ جب حملہ آور اپنی سازش کا آخری مرحلہ شروع کرنے والے تھے، ایجنسی نے ملک بھر میں ایک تیز، خفیہ اور مربوط آپریشن شروع کرتے ہوئے مختلف مقامات سے مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشوریہ رائے اور ابھیشیک بچن کے درمیان طلاق کی افواہوں پر امیتابھ بچن کا رد عمل
ماضی کے حملے اور موجودہ خطرات
ایجنسی نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف سٹریٹجک لحاظ سے اہمیت کی حامل ایئربیس کی حفاظت کی بلکہ گزشتہ کئی حملوں (بشمول نومبر 2024 میں کراچی کے سائٹ ایریا میں لبرٹی ٹیکسٹائل مل میں چینی انجینئرز پر حملہ) میں ملوث فتنہ الخوارج کے ایک اہم دہشت گرد نیٹ ورک کو بھی تباہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
حکام کی نظر میں اہم کمانڈر
موجودہ آپریشن میں پکڑے گئے اسی فتنہ الخوارج کمانڈر کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان فرار ہونے سے پہلے کراچی سائٹ میں ہونے والے حملے کا بھی ماسٹر مائنڈ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سی ایم انسپکشن ٹیم گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال پہنچ گئی، بدانتظامی پر نئی ایم ایس اور پرنسپل فارغ
دشمن ایجنسیوں کا حوالہ
حکام کی رائے ہے کہ یہ ماسٹر مائنڈ بارودی سرنگوں (آئی ای ڈیز) کا ماہر ہے جس نے افغانستان میں تربیت حاصل کی اور نیٹو اور اتحادی افواج کے ساتھ لڑائی کے دوران افغان طالبان کے ساتھ مل کر لڑتا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں اس واقعے میں دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا اشارہ ملتا ہے جو مبینہ طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں دہشت گرد عناصر کی مالی معاونت اور آلات فراہم کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے گی: عظمٰی بخاری
ماضی کی ناکام سازشیں
حکام نے گزشتہ اکتوبر میں ناکام ہونے والی اسی طرح کی دہشتگردی کی سازش کی طرف اشارہ کیا، جس میں فتنہ الخوارج اور دشمن ایجنسیوں نے اسلام آباد میں ایک بڑے بین الاقوامی ایونٹ کو سبوتاژ کرنے کی سازش کی تھی۔
قومی سلامتی کا عزم
ان خطرات کے باوجود پاکستان کی مسلح افواج، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کی حفاظت کیلئے اپنے مقصد میں ثابت قدم ہیں۔ حکام نے دہشت گردی کو اس کی تمام اشکال میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور مربوط، مسلسل چوکسی کے ذریعے قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔








