فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی امریکی تجویز پر سعودی عرب کا دوٹوک موقف آگیا
سعودی عرب کا موقف
ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب نے فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی امریکی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جاری جنگ بندی مذاکرات کے دوران مملکت کی حمایت کا اعادہ کیا اور مصر اور قطر کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ؛ رمضان 2026 میں صدقۂ فطر اور فدیہ کی نئی رقوم مقرر
وزیر خارجہ کا بیان
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا کہ وہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات زور دیتے ہوئے کہی کہ غزہ کے باشندے بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ آج نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی ضروری ہے، کیونکہ امداد کی کمی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے بہت سی باتوں پر مجھ سے اتفاق کیا ہے، اس وقت اہم عمران خان کی صحت ہے، ان کی آنکھ کا ضائع ہونا برداشت نہیں کرسکتے، اعتزاز احسن
ترکی میں اجلاس
شہزادہ فیصل نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ترکی میں ہونے والے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی کے خلاف سعودی عرب کے سخت موقف کو برقرار رکھا۔
انسانی امداد کی اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی کو جنگ بندی سے منسلک کرنے کی کوششوں پر بھی تنقید کی۔ شہزادہ فیصل نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بلا روک ٹوک امداد کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔








