فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی امریکی تجویز پر سعودی عرب کا دوٹوک موقف آگیا
سعودی عرب کا موقف
ریاض (ویب ڈیسک) سعودی عرب نے فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی امریکی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جاری جنگ بندی مذاکرات کے دوران مملکت کی حمایت کا اعادہ کیا اور مصر اور قطر کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت نے کے پی ہاؤس میں علی امین گنڈا پور سے بیٹے کے ہمراہ ملاقات کا دلچسپ واقعہ سنا دیا
وزیر خارجہ کا بیان
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا کہ وہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات زور دیتے ہوئے کہی کہ غزہ کے باشندے بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ آج نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی ضروری ہے، کیونکہ امداد کی کمی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ڈاکو کی فائرنگ سے 14سالہ بچہ جاں بحق
ترکی میں اجلاس
شہزادہ فیصل نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ترکی میں ہونے والے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی کے خلاف سعودی عرب کے سخت موقف کو برقرار رکھا۔
انسانی امداد کی اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی کو جنگ بندی سے منسلک کرنے کی کوششوں پر بھی تنقید کی۔ شہزادہ فیصل نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بلا روک ٹوک امداد کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔








