اسٹیبلشمنٹ اگربات کرنا چاہتی ہے توکرے لیکن پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتی ہے تو ٹی وی پرآکر کہے سویلین بالادستی کا بیانیہ جھوٹا تھا:حذیفہ رحمان
وزیرمملکت کا بیان
اسلام آباد (آئی این پی) وزیرمملکت برائے قومی ثقافت و ورثہ حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اگر اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتی ہے تو ٹی وی پر آکر کہے کہ سویلین بالادستی کا بیانیہ جھوٹا تھا۔ یہ عوام کو بتائیں کہ جھوٹا بیانیہ مقبولیت کیلئے تھا جبکہ حکومت میں گوڈے پکڑ کر آنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا 40 لاکھ سے زائد خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کا اعلان
سیاسی استحکام اور معیشت
وزیرمملکت نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سیاسی استحکام ہی معاشی استحکام کا باعث بنتا ہے۔ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پچھلے دس سالوں میں کسی اینکر نے اس اعتبار سے سوال نہیں اٹھایا کہ سربراہان مملکت یا سابق وزرائے اعظم پاکستان میں علاج کیوں نہیں کراتے؟
یہ بھی پڑھیں: پورٹریٹ مہارت کے نئے دور کا آغاز، ویوو نے پاکستان میں V60 متعارف کروا دیا
طبی سہولیات اور سابق وزیراعظم
انہوں نے کہا کہ لاہور میں ایسے ہسپتال اور ڈاکٹر موجود ہیں جو رائل فیملی کا علاج کرتے ہیں۔ ڈاکٹر حسنات، ڈاکٹر شہریار، اور عامر عزیز جیسے نامور ڈاکٹر موجود ہیں۔ میرے والد بھی میڈیکل فزیشن رہے ہیں۔ مگر جب سربراہ مملکت علاج کیلئے آتا ہے تو ڈاکٹر پر دباؤ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جانے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور فیملی ممبران کو پولیس نے تحویل میں لے لیا
نوازشریف کی صحت
انہوں نے مزید کہا کہ جب نوازشریف کو لندن بھیجا گیا تو ڈاکٹر فیصل سلطان کی نگرانی میں بہترین ڈاکٹرز کا ایک بورڈ تھا۔ نوازشریف کو دل کا پیچیدہ مرض لاحق ہے جس کا علاج دنیا کے چند ہسپتالوں میں ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور تعلیمی بورڈ نے انٹرمیڈیٹ سیکنڈ اینول 2025 پارٹ ون اور ٹو کے امتحانات کا شیڈول جاری کر دیا
پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بات چیت
وزیرمملکت نے پی ٹی آئی سے بات چیت کے حوالے سے کہا کہ اگر ان کا بیانیہ سویلین بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی مضبوطی جھوٹا تھا تو انہیں اس کا اقرار کرنا چاہیے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ بات کرنا چاہتی ہے تو بالکل بات کر لیں، مگر دوغلی پالیسی مناسب نہیں۔
آخری سوچ
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم شہبازشریف اور بلاول بھٹو مل بیٹھیں گے تو پیپلزپارٹی کے تحفظات دور ہو جائیں گے۔








