تحریک انصاف اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹ چکی، نامور صحافی کا انکشاف
پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ صورتحال
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نامور صحافی انصار عباسی نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) گزشتہ ایک سال کے دوران نئے عام انتخابات، حکومت کی تبدیلی اور 2024 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی مکمل تحقیقات کے اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 0
سیاسی توجہ کا تبدیل ہونا
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق اب پارٹی کی مکمل توجہ جیل میں قید پارٹی قیادت بشمول سابق وزیر اعظم عمران خان کیلئے ریلیف کے حصول اور مخالفانہ ماحول میں سیاسی مقام کے دوبارہ حصول پر مرکوز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کو مغربی ایشیاء سے چلے جانا چاہیے، ایران کی ہمسائیوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں، کوئی جنگ نہیں: ایرانی قونصل جنرل مہران موحدفر
ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات
پارٹی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما اب سمجھ چکے ہیں کہ تاریخی لحاظ سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہ راست تصادم فضول ہے۔ پی ٹی آئی کی سینئر شخصیات کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعتماد کا گہرا فقدان ٹھیک نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کشیدگی، خیبرپختونخوا حکومت توانائی بچت سے متعلق وفاقی تجاویز سے متفق ہو گئی
سیاسی بقاء کی حکمت عملی
پارٹی کی ایک سینئر شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کا اعتراف کیا کہ فی الوقت ہمارے لئے سب سے بہتر چیز یہ ہو سکتی ہے کہ اقتدار میں واپسی کے بجائے سیاسی بقاء کی حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ پارٹی کو سانس لینے کا موقع مل سکے اور 2028ء میں منصفانہ انتخابات ملیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنز ہاکی کپ ملائیشیا کے لیے 20 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان
موجودہ سسٹم کے بارے میں سوچ
پارٹی اب سمجھتی ہے کہ موجودہ "ہائبرڈ سسٹم" جاری رہے گا۔ یہ نظام ختم کرنے یا اسے کمزور کرنے کی پی ٹی آئی کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید کا سوات میں احتجاجی مارچ کا یکطرفہ اعلان ، پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی کے شدید تحفظات
پولٹیکل چیلنجز
پارٹی کا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ عدلیہ اپنی غیر جانبداری کھو چکی ہے جبکہ غیر ملکی حکومتوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں خاص طور پر نوجوانوں اور شہری متوسط طبقے میں پی ٹی آئی کی مقبولیت زیادہ ہے۔ تاہم، پارٹی رہنما مانتے ہیں کہ فوج سے براہ راست تصادم کی پالیسی غلط رہی۔
یہ بھی پڑھیں: آخری دم تک ایمانداری اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار پنجاب اسمبلی کے پہلے سپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا کے اعزاز میں تقریب ہوئی
تبدیلی کی ضرورت
پی ٹی آئی کیلئے ایک پریشان کن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہوا تو کیا اسٹیبلشمنٹ عمران خان پر دوبارہ بھروسہ کرے گی؟ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی سیاسی لحاظ سے ناقابل تصور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازم بھی سیاستدانوں کی ہاں میں ہاں ملاتے بھول جاتے ہیں کہ رازق اللہ ہے، جس کا جتنا دانہ پانی لکھا ہوتا ہے اسے کم یا زیادہ مل نہیں سکتا۔
سوشل میڈیا کی حکمت عملی
پریشان کن بات یہ ہے کہ مفاہمت کی خواہشات کے باوجود، پارٹی کے بانی چیئرمین نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے کیلئے پارٹی سوشل میڈیا کو بیان بازی میں نرمی لانے کا نہیں کہا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی ایشیائی کراٹے چیمپئن شپ: پاکستان کے حزیفہ ارشد نے گولڈ میڈل جیت لیا
مستقبل کی حکمت عملی
آئندہ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کو ایک عملی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہئے، اپنے قیدی رہنماو¿ں کیلئے قلیل مدتی ریلیف حاصل کرنا، نچلی سطح پر دوبارہ منظم ہونا اور آئندہ عام انتخابات کیلئے تیاری شروع کرنا۔
نئی حکمت عملی کی ضرورت
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا پارٹی اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے تصادم کے بجائے بقائے باہمی کا راستہ چنتی ہے یا نہیں۔








