ایران کے خلاف جنگ: اسرائیلی وزیراعظم عوام کا اعتماد کھونے لگے، مقبولیت میں تیزی سے کمی
نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے خلاف جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو عوام کا اعتماد کھونے لگے۔ نجی ٹی وی جیو نیوز نے اسرائیل میں کرائے گئے تازہ ترین سرویز کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیلی عوام کا اعتماد کھو رہے ہیں، ان کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کا طالبان رجیم کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کا اعلان
انتخابات اور مقبولیت کی کمی
قبل ازوقت انتخابات کرا کے ایک بار پھر اقتدار سنبھالنے کے منصوبے بنانے والے نیتن یاہو کو ایران کے خلاف جنگ سے وہ مقبولیت نہیں مل پائی جس کی وہ امید کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا 27ویں ترمیم کے خلاف 14 نومبر کو حیدر آباد سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان
سروے کی تفصیلات
سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 59 فیصد اسرائیلی شہری چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کی واپسی کے بدلے غزہ میں جاری لڑائی ختم کردی جائے جبکہ نیتن یاہو پر الزام ہے کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے اسرائیلی یرغمالیوں کی محفوظ واپسی کی قربانی دے رہے ہیں۔ 49 فیصد اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ غزہ کی جنگ اب بھی جاری رہنے کی وجہ صرف نیتن یاہو کی سیاسی خواہشات ہیں۔ اسرائیلیوں کی اکثریت اب نیتن یاہو پر اعتماد نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: چارلی کرک کی اہلیہ کا شوہر کے قاتل کو معاف کرنے کا اعلان
جنگ کا اثر اور دباؤ
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو اسرائیل میں سیاسی سانس لینے کا ایک مختصر موقع تو دیا تاہم ان پر 50 سے زائد اسرائیلی یرغمالیوں کو بازیاب کرانے اور غزہ جنگ ختم کرنے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چترال میں نایاب نسل کا برفانی چیتا پُر اسرار طور پر ہلاک
قانونی مشکلات کا سامنا
علاوہ ازیں نیتن یاہو پر مختلف مقدمات میں 3 بار فرد جرم عائد ہو چکی ہے، اس وقت بھی نیتن یاہو کو ایک بڑے کرپشن کیس کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ جنگی جرائم کے ارتکاب پر انٹرنیشنل کریمنل کورٹ سے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں۔
مستقبل کی پیش گوئی
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق حتمی فرد جرم عائد ہونے سے اسرائیلی وزیر اعظم پر استعفے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔








