ایران کے خلاف جنگ: اسرائیلی وزیراعظم عوام کا اعتماد کھونے لگے، مقبولیت میں تیزی سے کمی
نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے خلاف جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو عوام کا اعتماد کھونے لگے۔ نجی ٹی وی جیو نیوز نے اسرائیل میں کرائے گئے تازہ ترین سرویز کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیلی عوام کا اعتماد کھو رہے ہیں، ان کی مقبولیت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: جوہر ٹاؤن، فارم ہاؤس میں شیر نے فیملی پر حملہ کردیا
انتخابات اور مقبولیت کی کمی
قبل ازوقت انتخابات کرا کے ایک بار پھر اقتدار سنبھالنے کے منصوبے بنانے والے نیتن یاہو کو ایران کے خلاف جنگ سے وہ مقبولیت نہیں مل پائی جس کی وہ امید کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کر سکتا ہے؟
سروے کی تفصیلات
سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ 59 فیصد اسرائیلی شہری چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کی واپسی کے بدلے غزہ میں جاری لڑائی ختم کردی جائے جبکہ نیتن یاہو پر الزام ہے کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے اسرائیلی یرغمالیوں کی محفوظ واپسی کی قربانی دے رہے ہیں۔ 49 فیصد اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ غزہ کی جنگ اب بھی جاری رہنے کی وجہ صرف نیتن یاہو کی سیاسی خواہشات ہیں۔ اسرائیلیوں کی اکثریت اب نیتن یاہو پر اعتماد نہیں کرتی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرکٹر چور رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، ساری رات تشدد، قتل کردیا گیا
جنگ کا اثر اور دباؤ
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو اسرائیل میں سیاسی سانس لینے کا ایک مختصر موقع تو دیا تاہم ان پر 50 سے زائد اسرائیلی یرغمالیوں کو بازیاب کرانے اور غزہ جنگ ختم کرنے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی کو چمکنی میں خودکش حملہ آور کا ٹارگٹ مذہبی شخصیت تھی: آئی جی خیبرپختونخوا
قانونی مشکلات کا سامنا
علاوہ ازیں نیتن یاہو پر مختلف مقدمات میں 3 بار فرد جرم عائد ہو چکی ہے، اس وقت بھی نیتن یاہو کو ایک بڑے کرپشن کیس کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ جنگی جرائم کے ارتکاب پر انٹرنیشنل کریمنل کورٹ سے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں۔
مستقبل کی پیش گوئی
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق حتمی فرد جرم عائد ہونے سے اسرائیلی وزیر اعظم پر استعفے کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔








