ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد اسرائیل کا یمن میں بڑا فضائی حملہ
اسرائیل کے حملے
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل نے ایران-اسرائیل جنگ بندی کے بعد یمن میں حوثی شدت پسندوں کے خلاف اپنے پہلے حملے کیے ہیں، جن میں اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک حوثی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلی بار ایشین ٹیموں کے ورلڈ کپ سیمی فائنل سے باہر ہونے کا خدشہ
امریکی میڈیا کی رپورٹ
امریکی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں یمن کی بحیرہ احمر کے کنارے واقع اہم بندرگاہوں اور ایک بجلی گھر کو ہدف بنایا گیا۔ اسرائیل کی فوج (IDF) کے مطابق یہ حملے اُس وقت کیے گئے جب حوثی شدت پسندوں نے جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی طرف کم از کم تین بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے ایک کو کامیابی کے ساتھ روک لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی اسٹیشن 1881ء میں تعمیر ہوا، ایک طرف ٹیکسلا، دوسری طرف اسلام آباد، دبے پاؤں چلتا ہوا روات اور گوجر خان کے گریبان تک بھی آن پہنچا ہے۔
حوثی مقامات کا نشانہ
اسرائیل نے حوثیوں کے زیر قبضہ حدیدہ، رش عیسا، صلیف بندرگاہوں اور راس کاناتب پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، اسرائیل نے گلیکسی لیڈر نامی ایک کارگو جہاز پر بھی حملہ کیا، جسے حوثیوں نے نومبر 2023 میں قبضے میں لے لیا تھا۔ اسرائیل فوج کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے اس جہاز پر ریڈار سسٹم نصب کیا تھا، جسے وہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر جہازوں کو ٹریک کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں سہولت دینے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ساری ذمہ داریاں کمپیوٹروں کو سونپی جا رہی ہیں لیکن پاکستان میں سوائے چند بڑے اسٹیشنوں کے، ابھی تک پرانا سیمافورسسٹم ہی چل رہا ہے۔
انخلاء کی وارننگ
صیہونی فوج کے عربی زبان کے ترجمان آویچائی ادری نے حملوں سے قبل مقامی وقت کے مطابق پورٹس اور بجلی گھر کے لیے انخلاء کی وارننگ جاری کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کے لیے پرعزم ہے: بلال اظہر کیانی
اسرائیلی وزیر دفاع کا بیان
اسرائیلی وزیر دفاع اسرآئیل کٹز نے ان حملوں کو آپریشن بلیک فلیگ کا حصہ قرار دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرتے رہیں گے، اور اگر وہ اسرائیل کی طرف ڈرونز اور بیلسٹک میزائل داغنا جاری رکھتے ہیں تو مزید حملے کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بین الاقوامی ایئرپورٹس سے مشرق وسطیٰ کی 102 پروازیں منسوخ
حوثیوں کا ردعمل
حوثی فوج نے اسرائیلی حملوں کی تصدیق کی لیکن کہا کہ یمنی فضائی دفاعی نظام نے اسرائیلی جارحیت کا مؤثر مقابلہ کیا اور مقامی طور پر تیار کردہ سطح سے ہوا تک میزائلوں کے ذریعے بھرپور جواب دیا۔ اس حملے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی رپورٹ نہیں آئی۔ حوثیوں کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرحا نے کہا کہ یمنی بندرگاہوں، بجلی گھروں اور دیگر شہری سہولتوں کو نشانہ بنانا شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے اور اس کا کسی فوجی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ون ڈے؛ کپتان شاہین آفریدی کیخلاف دستیاب ہوں گے یا نہیں؟ راولپنڈی سے اہم خبر آگئی۔
بینجمن نیتن یاہو کی واشنگٹن روانگی
یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو واشنگٹن روانہ ہو کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں۔
موجودہ صورت حال
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی طرف سے مسلسل میزائل اور راکٹ حملوں کا سامنا ہے، جو فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر اسرائیل کو نشانہ بناتے ہیں۔








