اچھی دوستی تھی؛ لکھوا لیا”یہ الیکشن امن و امان کی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں لہٰذا وقتی طور پر ملتوی کر دینا چاہیے“اس دور میں اے سی انتطامیہ کا سربراہ ہوتا تھا۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 227
یہ بھی پڑھیں: وہاڑی؛ پولیس کا جسم فروشی کے اڈے پر چھاپہ، 2 مرد اور 4 خواتین گرفتار
چیئرمین یونین کونسل کی موت
اے سی رہنے کا حق نہیں؛ 92 میں چیئرمین یونین کونسل دھوریہ چوہدری یوسف قضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ ان کی جگہ وائس چیئرمین چوہدری محمد آصف دھوریہ یونین کونسل کے بطور قائم مقام چیرمین فرائض انجام دینے لگے۔ (یہ دھوریہ کی معروف شخصیت چوہدری اسلم دھوریہ کے بھائی اور چوہدری نعیم اسلم کے چچا تھے۔)
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے ہفتے کے روز وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی نوید سنا دی
انتخابی صورتحال
اس یونین کونسل کا سیکرٹری غلام محمد بھلے مانس اور اپنے کام میں مہارت رکھتا تھا۔ مرنے والے چیئرمین کی خالی نشست پر الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونا تھا مگر مقامی ایم پی اے میاں طارق اس سیٹ پر الیکشن رکوانا چاہتے تھے کہ اُس کا حمایت یافتہ امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 2 مختلف مقامات پر مبینہ پولیس مقابلے، 2 ڈاکو ہلاک، ایک زخمی حالت میں گرفتار
ڈی ایس پی کی مداخلت
اس مقصد کے لئے انہوں نے ڈی ایس پی (ڈپٹی سپرنٹندنٹ پولیس) کھاریاں فیاض لودھی سے لکھوا لیا؛ "یہ الیکشن امن و امان کی صورت حال پیدا کر سکتے ہیں لہٰذا وقتی طور پر ملتوی کر دینا چاہیے۔" اس دور میں اے سی مقامی انتظامیہ کا سربراہ ہوتا تھا اور پولیس بھی اسی انتظامی اکائی کے ماتحت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے نئے ہیڈ کوچ کی تلاش شروع کردی
اے سی ڈاکٹر عامر کی کال
عل علی الصبح اے سی ڈاکٹر عامر کا مجھے فون آیا کہ ابھی گھر پر آؤ۔ میں چلا گیا۔ (اے سی ڈاکٹر عامر مجھ پر بڑا بھروسہ کرتے اور بہت سے مشورے مجھ سے ہی کیا کرتے تھے۔) ان کے ڈرائینگ روم میں بیٹھے تو ڈاکٹر نے کہا؛ "میاں طارق الیکشن ملتوی کروانا چاہ رہا ہے۔ تم اس بارے کیا کہتے ہو؟" میں نے جواب دیا؛ "سر! ایسی کوئی بھی صورت حال نہیں کہ الیکشن ملتوی کیا جائے۔"
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی فارما برآمدات 457 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو 2 دہائیوں میں صنعت کی سب سے بڑی کامیابی ہے،ہارون اختر
میاں طارق کا دباؤ
ہماری بات ختم ہوئی تو فون پر اُن کے اپریٹر نے اطلاع دی؛ "سر! میاں طارق ملنے آئے ہیں۔" جب ہم دفتر پہنچے تو میاں طارق انتظار کر رہا تھا، چہرے پر پریشانی بھی تھی اور غصہ بھی۔
یہ بھی پڑھیں: گلے ملنے کی ویڈیو وائرل: امریکی نائب صدر اور ایریکا کرک کی شادی کی خبریں گردش کرنے لگیں
اے سی کا جواب
میاں طارق نے اے سی سے کہا؛ "دھوریہ والا الیکشن ملتوی کروا دیں صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔ لڑائی کا خطرہ ہے۔" اے سی کاغذ پڑھے بغیر اُن سے مخاطب ہوئے؛ "میاں صاحب! اگر ایسے پرامن ماحول میں ایک یونین کونسل کے ایک وارڈ کا الیکشن اے سی نہیں کروا سکتا تو کم از کم مجھے اے سی رہنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔"
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں پولیس نے عمران خان کو احتجاج پر اکسانے سے متعلق تفتیش میں شامل کرلیا
کمشنر کی مداخلت
کمشنر سے بات کرنے پر، کمشنر نے ڈاکٹر صاحب کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا؛ "میاں صاحب! جاؤ تے الیکشن دی تیاری کرو۔" فون بند ہوا۔ میاں طارق غصے میں چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا بنوں میں آپریشن، 6 خوارج ہلاک، 4 زخمی
الیکشن کی تیاری
ڈاکٹر صاحب مجھے سے کہنے لگے؛ "شہزاد! الیکشن سٹاف تگڑا لگانا۔ کوئی شکایت نہ آئے۔" میں نے جواب دیا؛ "سر فکر نہ کریں۔ انشا اللہ کوئی شکایت نہیں ملے گی۔" (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








