کوہستان میگا کرپشن سکینڈل، نیب نے 8 ملزمان کو گرفتار کر لیا
پشاور میں نیب کی کارروائی
قومی احتساب بیورو (نیب) نے 40 ارب روپے کے کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل میں 8 اہم ملزمان کو گرفتار کرلیا جن میں 2 سرکاری افسر، 2 بینکر اور 4 ٹھیکیدار شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر شفقت حسین چوہدری کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار
تفصیلات اور گرفتاریوں کا عمل
تفصیلات کے مطابق جعلی چیکوں کی منظوری و دستخط، جعلی تعمیراتی فرمز، اے جی آفس اہلکار کی بے ضابطگیوں میں ملی بھگت و بینک کی سہولت کاری ثابت ہوئی۔ صوبے کے سب سے بڑے مالیاتی کرپشن میگاسکینڈل کی تحقیقات کا سلسلہ مزید وسیع کر لیا گیا ہے اور سکینڈل میں ملوث مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف پاکستانی ٹک ٹاکر مریم فیصل کی مبینہ قابل اعتراض ویڈیو لیک ہو گئی
ملزمان کی شناخت
گرفتار ہونے والوں میں شفیق الرحمان قریشی (ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر)، محمد ریاض (سابق کیشئیر بینک اور ڈمی کنٹریکٹر)، فضل حسین (آڈیٹر، اے جی آفس پشاور)، طاہر تنویر (سابق مینیجر بینک)، دوراج خان (ٹھیکیدار)، عامر سعید (ٹھیکیدار)، صوبیدار (ٹھیکیدار) اور محمد ایوب (ٹھیکیدار) شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدہ صورتحال کے بعد بحیرہ عرب میں تعینات بھارتی بیڑہ ‘آئی این ایس وکرانت، اچانک واپس نیول اسٹیشن پہنچ گیا
الزامات کی تفصیل
ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی بلنگ، مالیاتی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے کی خردبرد کی۔ انہوں نے مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے ساتھ ملی بھگت سے بے نامی اکاؤنٹس اور جعلی فرمز کے ذریعے فنڈز منتقل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کا قذافی سٹیڈیم اپ گریڈیشن پراجیکٹ کے تعمیراتی کاموں کا جائزہ
تحقیقات کا دائرہ
صوبے کے سب سے بڑے مالیاتی کرپشن کے میگاسکینڈل کی تحقیقات کا سلسلہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس اسکینڈل میں ملوث مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شفیق الرحمان قریشی کا کردار
سرکاری دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ شفیق الرحمان قریشی (ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر) نے اپر کوہستان میں جعلی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ ہیڈ G0113 کے تحت جعلی ٹریژری چیکوں کی منظوری اور دستخط میں مرکزی کردار ادا کیا۔








