قطر پر حملے کا فیصلہ کس کا تھا؟ امریکی صدر کا اہم بیان سامنے آگیا
ٹرمپ کا اعلان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ قطر پر حملے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نوابزادہ لیاقت علی خان نے اپنے گھر کی بالکنی سے خطاب کیا، عوام کو حوصلہ دیتے ہوئے ہندوستان پر واضح کیا کہ پاکستان کے خلاف جارحیت مہنگی پڑے گی۔
حملے کی وضاحت
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ قطر پر یکطرفہ بمباری اسرائیل یا امریکا کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر پر حملے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تھا، نہ کہ ان کا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں دس سالہ بچے کے گلے پر پتنگ اڑانے والی ڈور پھر گئی
دفاعی تعاون کا معاہدہ
امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کو قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کا کہا گیا ہے۔ قطر ایک خودمختار ملک ہے اور امریکا کا قریبی اتحادی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ قطر ہمارے ساتھ مل کر بہادری سے امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ حماس نے غزہ کے عوام کی بدحالی سے فائدہ اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے وی آئی پیز کے لیے نئی گاڑیاں خریدنے کی منظوری دے دی
وائٹ ہاؤس کا بیان
واضح رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت کی جانب سے قطری حکام کو دوحہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے کے بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا۔ تاہم قطری حکام نے اس کی تردید کی ہے۔
قطر کی تردید
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے وائٹ ہاؤس کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قطر کو حملے کی پیشگی اطلاع دیے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ماجد الانصاری نے وضاحت کی کہ امریکی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی فون کال اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں کے دوران کی گئی تھی۔








