قطر پر حملے کا فیصلہ کس کا تھا؟ امریکی صدر کا اہم بیان سامنے آگیا
ٹرمپ کا اعلان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ قطر پر حملے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے امریکہ کی قائم مقام سفیر نٹالی اے۔ بیکر کی ملاقات
حملے کی وضاحت
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، اپنے ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ قطر پر یکطرفہ بمباری اسرائیل یا امریکا کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر پر حملے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا تھا، نہ کہ ان کا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈسٹرکٹ جیل ملیر کراچی سے 200 سے زائد قیدی کس طرح فرار ہوئے؟ کیا بہانہ بنا کر انتظامیہ کو بے وقوف بنایا؟ تمام تفصیلات سامنے آگئیں۔
دفاعی تعاون کا معاہدہ
امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کو قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کا کہا گیا ہے۔ قطر ایک خودمختار ملک ہے اور امریکا کا قریبی اتحادی ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ قطر ہمارے ساتھ مل کر بہادری سے امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ حماس نے غزہ کے عوام کی بدحالی سے فائدہ اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرپول نے مونس الہیٰ کے خلاف 2 سال سے جاری تحقیقات بند کردی
وائٹ ہاؤس کا بیان
واضح رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی حکومت کی جانب سے قطری حکام کو دوحہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے کے بارے میں آگاہ کردیا گیا تھا۔ تاہم قطری حکام نے اس کی تردید کی ہے۔
قطر کی تردید
قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے وائٹ ہاؤس کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قطر کو حملے کی پیشگی اطلاع دیے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ماجد الانصاری نے وضاحت کی کہ امریکی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی فون کال اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں کے دوران کی گئی تھی۔








