بچے کے نام پر اتفاق نہ ہونے پر والدین نے طلاق کا مقدمہ دائر کردیا
شنگھائی میں انوکھا مقدمہ
چین کے صوبہ شنگھائی میں ایک انوکھا مقدمہ سامنے آیا جہاں ایک جوڑے نے بچے کے خاندانی نام (surname) پر اتفاق نہ ہونے کے باعث عدالت میں طلاق کا کیس دائر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو ’’ایک اور جھٹکا‘‘ ،اہم رہنما نے علیٰحدگی اختیار کر لی
شوہر اور بیوی کے مؤقف
تفصیلات کے مطابق شوہر کا مطالبہ تھا کہ بچے کو اُس کے خاندان کا نام دیا جائے جیسا کہ چین میں صدیوں سے روایت رہی ہے۔ بیوی چاہتی تھی کہ بچے کو اُس کے خاندان کا نام دیا جائے تاکہ عورت کے خاندان کی شناخت بھی آگے بڑھے۔
یہ بھی پڑھیں: سیف اللہ ابڑو کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر وزارت داخلہ کو 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم
عدالت کا فیصلہ
دونوں فریق اپنے مؤقف پر سختی سے ڈٹے رہے اور صلح نہ ہو سکی جس کے بعد طلاق کا معاملہ عدالت پہنچ گیا۔ شنگھائی کی عدالت نے ماں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے بچوں کی کفالت ماں کو دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: دلکش لمحہ تھا، ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، کچھ دو تین اجنبی چہرے بھی اِدھر اُدھر ملنے ملانے میں مصروف پائے گئے، میں ذرا کھلے ڈھلے موڈ میں تھا۔
بچے کے مفاد کی اہمیت
فیصلے میں کہا گیا کہ بچے کے بہتر مفاد اور پرورش کو مدِنظر رکھنا والدین کی انا سے زیادہ اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولٹری ایسوسی ایشن پر مرغی کی قیمتیں بڑھانے کا الزام ثابت، ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ عائد
ثقافتی تبدیلیاں
اگرچہ چین میں روایتی طور پر بچوں کا خاندانی نام ہمیشہ والد کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں زیادہ سے زیادہ جوڑے بچوں کو ماں کا خاندانی نام دینے لگے ہیں، خاص طور پر دوسری یا تیسری اولاد کے ساتھ۔
ماہرین کے خیالات
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی چین میں خاندانی نظام اور صنفی برابری کی بڑھتی ہوئی سوچ کی عکاس ہے۔








