ایس پی عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی سے قبل ان سے کیا گفتگو ہوئی؟ آپریٹر کا بیان سامنے آگیا
اسلام آباد میں ایس پی انڈسٹریل ایریا کی مبینہ خودکشی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی پولیس میں تعینات ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی سے قبل کی جانے والی گفتگو پر ان کے ساتھ گاڑی میں موجود آپریٹر کا بیان سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانے میں کامیاب ہوگیا: عمر عبداللہ
تفتیش کا آغاز
جیونیوز کے ذرائع کے مطابق عدیل اکبر کی موت کے وقت گاڑی میں موجود آپریٹر اور ڈرائیوار زیر حراست ہیں۔ دونوں سے واقعے کے دوران گاڑی میں ہونے والی بات چیت سے متعلق تفتیش جاری ہے۔ پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ ایس پی عدیل اکبر نے ہتھیار کیوں مانگا اور انہیں کیوں دیا گیا؟ زیر حراست افراد سے تفتیش جاری ہے، ایس پی عدیل اکبر کو موبائل پر آنے والی کالز کی تفتیش بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جرمن ہم منصب سے ملاقات
آپریٹر کا ابتدائی بیان
گاڑی میں موجود آپریٹر نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ایس پی عدیل اپنی پروموشن سے متعلق اسٹبلشمنٹ ڈویژن ملنے جا رہے تھے۔ ایس پی عدیل اکبر کو ایک کال 4 بج کر 23 منٹ پر آئی۔ عدیل اکبر نے ڈرائیور کو دفتر خارجہ جانے کا کہا۔ وہ کاغذات کی تصدیق کے لیے دفتر خارجہ گئے اور کچھ دیر بعد واپس آ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے بڑھتے ڈیجیٹل اثر و رسوخ سے بھارت پریشان، ایک اور پراپیگنڈہ بے نقاب، مائیکروسافٹ کا پاکستان میں دفتر بند کرنے کا دعویٰ بھی جھوٹا نکلا
ہتھیار کا مانگنے کا واقعہ
آپریٹر نے اپنے بیان میں بتایا کہ ایس پی عدیل اکبر کو ایک اور کال آئی جس کے بعد نجی ہوٹل کے سامنے عدیل اکبر نے مجھ سے گن مانگ لی۔ میں نے میگزین نکال کر گن ایس پی عدیل اکبر کو دے دی۔ عدیل اکبر نے سکیورٹی چیکنگ کے دوران پوچھا یہ گن چلتی بھی ہے کہ نہیں، اور کہا ''لاؤ میگزین مجھے دو، اس میں کتنی گولیاں ہیں۔''
یہ بھی پڑھیں: عبد اللہ شفیق نے ‘انڈے،پر آؤٹ ہو کر شرمناک ریکارڈ بنا لیا’
واقعے کا نتیجہ
پولیس آپریٹر نے بتایا کہ میں نے میگزین عدیل اکبر کے حوالے کیا اور کہا اس میں 50 گولیاں ہیں۔ عدیل اکبر اپنی سرکاری گاڑی ڈبل کیبن کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے، میں اور ڈرائیور گاڑی کی اگلی نشست پر موجود تھے۔ عدیل اکبر نے میگزین لے کر گن میں لوڈ کی، اور چند لمحوں بعد اچانک فائر کی آواز آئی۔
ایس پی عدیل اکبر کی موت
ابتدائی بیان میں آپریٹر نے بتایا کہ عدیل اکبر کے ماتھے پر فائر لگا جو سر کے پچھلے حصے سے باہر نکل گیا۔ عدیل اکبر کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔ آپریٹر نے بتایا کہ انہوں نے فوری طور پر کنٹرول روم کو اطلاع دی کہ ایس پی صاحب سے فائر ہو گیا ہے اور ڈرائیور نے گاڑی فوراً پمز کی طرف روانہ کر دی۔








