ایل جی بی ٹی کیو پر آواز اٹھانے والے بچے بازی پر خاموش ہیں، اداکارہ نادیہ جمیل
نادیہ جمیل کی معاشرتی حقیقت پر روشنی
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر اداکارہ نادیہ جمیل نے کہا ہے کہ پاکستان میں بہت سارے افراد ’لیزبین، گے، بائی سیکسوئل، ٹرانس جینڈرز‘ (ایل جی بی ٹی کیو) کے خلاف باتیں کرتے ہیں لیکن کوئی بھی ملک میں جاری ’بچہ بازی‘ پر بات نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرے ون ڈے میں محمد رضوان اور کلاسن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ، کیا ہوا تھا؟ جانئے
نوجوان لڑکیوں کے گروپ سے خطاب
نادیہ جمیل کی جانب سے نوجوان لڑکیوں کے گروپ سے خطاب کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں انہوں نے معاشرے کے تلخ حقائق پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ایک صحافی نے خفیہ کیمرے کے ساتھ لاہور سمیت دیگر شہروں میں بچوں کے 9 جسم فروشی کے اڈے ڈھونڈ نکالے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے اہم اعلان کر دیا
معاشرتی استحصال کا مسئلہ
جہاں 7 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کی جسم فروشی جاری تھی۔ اداکارہ نے بتایا کہ صحافی نے خفیہ کیمرے کے ذریعے بچوں کے جسم فروشی کے اڈوں کی ویڈیو بھی بنائی، جس میں کم عمر بچوں کو دیکھ کر ان کا دل دہل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ون ڈے؛ کپتان شاہین آفریدی کیخلاف دستیاب ہوں گے یا نہیں؟ راولپنڈی سے اہم خبر آگئی۔
بچہ بازی کے واقعات
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں اسکولوں، گھروں، تعلیمی اداروں سمیت دیگر مقامات پر کم عمر لڑکوں کا استحصال جاری ہے اور اس پر کوئی بولنے کو تیار نہیں۔ نادیہ جمیل نے کہا کہ خصوصی طور پر ٹرک اڈوں پر بچہ بازی کا رجحان زیادہ ہے، جہاں کم عمر بچوں کو جنسی استحصال کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ، بہتر ہے صلح صفائی ہو ، فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں اگر ہوا تو چھپائیں گے نہیں، بیرسٹر گوہر
معاشرتی عدم توجہی
اداکارہ کے مطابق کوئلے کی کانوں سے لے کر کام کی دیگر جگہوں پر کم عمر بچوں کا جنسی استحصال جاری ہے لیکن کوئی بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنسی استحصال کا شکار بننے والے بچوں سے پوچھیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ وہ بڑا ہوکر ٹرک ڈرائیور بنیں گے، کیونکہ انہیں ایک ہی لڑکے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پورٹ پر تاریخی کارروائی، سکریپ کے کنٹینر سے لاکھوں ڈالر مالیت کی 47 کلوگرام کوکین برآمد
معاشرتی بے حسی پر سوالات
نادیہ جمیل بچہ بازی پر بات کرتے ہوئے جذباتی بھی ہوگئیں اور کہا کہ ہم سب نے مذکورہ عمل کو عام فہم قرار دے رکھا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ہم بچہ بازی کے عمل کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے تو باقی اعمال کے خلاف کیوں آواز اٹھاتے ہیں؟
اختتامی خیالات
انہوں نے دلیل دی کہ بہت سارے لوگ ایل جی بی ٹی کیو سمیت دیگر مسائل پر بات کرتے ہیں لیکن بچہ بازی پر کچھ بھی نہیں بولتے۔








