بلدیاتی انتخابات میں لاہور کے تمام حلقوں سے 5000 امیدوار میدان میں اتاریں گے : فیصل میر
پیپلز پارٹی کی پنجاب میں توجہ نہ دینا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چودھری اعتزاز احسن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب کی طرف پورا دھیان نہیں دیا، اس کوتاہی کو تسلیم کرنا چاہیے۔ پنجاب تو پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا، سندھ کے ارکان اسمبلی کو کہتا رہتا ہوں کہ پنجاب کی طرف بھی دھیان دیں، سندھ میں موجود ہونگے تو وفاق میں بھی پارٹی مضبوط ہو جائے گی۔ تجویز کرتا ہوں کہ چیئرمین بلاول بھٹو مخلص جیالوں پر مشتمل خود احتسابی کمیٹی بنائیں، قبل از وقت جنگ کر کے ورکرز کو تھکانا نہیں چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں دفعہ 144 کے تحت ڈرون، فینٹم اور کیم کوپٹر اڑانے پر پابندی
جلسے کی تفصیلات

انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے 58ویں یوم تاسیس کے بلاول پارک ایچی سن سوسائٹی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت 20 جنوری تک ملتوی
ذوالفقار بھٹو کا ورثہ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امتیاز صفدر وڑائچ نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے مزدور، کسان اور غریبوں کیلئے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر پیپلز پارٹی کی لاہور میں بنیاد رکھی اور سر زمین بے آئین کو ملک کا پہلا متفقہ آئین دیا، ون مین ون ووٹ کو عملی شکل دی، تمام تر دھمکیوں کے باوجود ایٹم بم بنانے کی بنیاد رکھی۔ آج بھارت کے طیارے بھٹو کی لگائی فیکٹری میں بنے طیاروں سے گرائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اجلاس بغیر کارروائی کے ختم، کل دوبارہ ہوگا
جیالوں کا عزم
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیصل میر نے کہا کہ ایوب خان کے مارشل لاء، پی این اے، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کا مقابلہ کرنے والے جیالے ہمارا ورثہ ہیں، لاہور کے جیالے آج بھی (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں لاہور کے تمام حلقوں میں 5000 امیدوار میدان میں اتاریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نیوی کو تیار دیکھ کر دشمن کو آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی : وائس ایڈمرل رب نواز
مقررین کی شرکت
تقریب سے زاہد ذوالفقار، شاہدہ جبیں، عارف خان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر پنڈال "وزیراعظم بلاول، شیروں کا شکاری زرداری اور سب سے یاری زرداری کے نعروں" سے گونجتا رہا۔
جلسے کا نظامت
جلسے میں نظامت کے فرائض رانا اشعر نثار نے ادا کیے جبکہ علامہ یوسف اعوان نے تلاوت کلام سے جلسے کی شروعات کی۔ اس موقع پر رانا جمیل منج، فائزہ ملک، اشرف خان، عزیز الرحمٰن چن، ذوالفقار علی بدر، زاہد ذوالفقار، شکیل چنی، یاسر بارا، چودھری ریاض، نصیر احمد، عامر نصیر بٹ، عارف خان، حاجی نواز گڈو، ذیشان شامی، عمیر بٹ، حمزہ جٹ، طاہرہ جالب، عدنان کھوکھر، شہباز درانی، منیر ڈگرا، شاہدہ جبیں، انیسہ بانو، عائشہ غوری، ڈاکٹر خیام، صداقت شیروانی، مجید غوری، ڈاکٹر احسن، خالد رانا، ثاقب بٹ، پروین شیخ، ڈاکٹر وسیم میو، رانا ذوالفقار، منشا پرنس، عارف ظفر، عمر ایاز، راؤ شجاعت، میاں نعیم ظفر سمیت جیالوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔








