وفاقی آئینی عدالت کو شرعی عدالت منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری
وفاقی آئینی عدالت کی منتقلی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت کو وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس، شیخ رشید کی درخواست خارج کیخلاف اپیل مسترد
نوٹیفکیشن کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کےمطابق نوٹفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کو موجودہ وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کردیا جائے گا جبکہ شرعی عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران باغیوں کو پھانسیاں دی جاتی تھیں اور لاشوں کو لٹکتا چھوڑدیا جاتا تھا
صدر مملکت کی منظوری
وفاقی آئینی عدالت کی منتقلی سے متعلق فیصلے کی صدرمملکت آصف علی زرداری نے منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اننگز میں 19 چھکے، نیوزی لینڈ کے فن ایلن نے کرس گیل کا ریکارڈ توڑدیا
پچھلے انتظامات
قبل ازیں وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں بنائی گئی تھی جہاں چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان اور دیگر ججوں نے مقدمات کی سماعت شروع کی تھی۔
آئینی ترمیم کا پس منظر
خیال رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے بجائے الگ سے وفاقی آئینی عدالت بنانے کی منظوری دی گئی تھی اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان کو آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور دیگر ججوں کی تعیناتی کی گئی۔








