وفاقی آئینی عدالت کو شرعی عدالت منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری
وفاقی آئینی عدالت کی منتقلی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت کو وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں مشکوک افراد کی پولیس موبائل پر فائرنگ، ہیڈ کانسٹیبل کا اغوا اور رہائی، ملزم گرفتار نہ ہوسکے
نوٹیفکیشن کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کےمطابق نوٹفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کو موجودہ وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل کردیا جائے گا جبکہ شرعی عدالت کو اسلام آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز کی سکیورٹی، آئی جی پنجاب نے 23کڑور 86 لاکھ 45 ہزار روپے کی نئی گاڑیاں خریدنے کی سمری وزیراعلیٰ کو بھجوا دی
صدر مملکت کی منظوری
وفاقی آئینی عدالت کی منتقلی سے متعلق فیصلے کی صدرمملکت آصف علی زرداری نے منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم پاکستان نے دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
پچھلے انتظامات
قبل ازیں وفاقی آئینی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں بنائی گئی تھی جہاں چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان اور دیگر ججوں نے مقدمات کی سماعت شروع کی تھی۔
آئینی ترمیم کا پس منظر
خیال رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے بجائے الگ سے وفاقی آئینی عدالت بنانے کی منظوری دی گئی تھی اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان کو آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور دیگر ججوں کی تعیناتی کی گئی۔








