انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشت گردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے، طلال چودھری
سوشل میڈیا کے قوانین کی سختی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستانی قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نو مئی مقدمات، پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں 3 اپریل تک توسیع
پریس بریفنگ کا خلاصہ
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرمملکت برائے قانون بیرسٹر دانیال نے مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ انڈیا اور افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشتگردی پر مبنی مواد چلایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پہلے بھی کہا گیا تھا کہ وہ پاکستانی قوانین پر عمل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو آنکھ سے کتنا نظر آتا ہے، یہ فیصلہ کوئی وکیل نہیں بلکہ ماہر ڈاکٹر کرے گا، طلال چوہدری
سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ اقدامات
طلال چوہدری نے کہا کہ اگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستانی قوانین پر عمل نہیں کیا تو کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان کے حکومتی اداروں کے آفیشل اکاونٹس سے دہشتگردی پر مبنی مواد پھیلایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی ایران پر نئی پابندیاں
پاکستان میں دفاتر کا قیام
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان میں دفاتر بنانا ہوں گے، ورنہ حکومت کارروائی پر مجبور ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: کینیا میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے 6 پاکستانیوں کو رہا کرنے کا حکم
پاکستانی اداروں کی کوششوں کا ذکر
طلال چوہدری نے بتایا کہ دہشتگردی پر مبنی سوشل میڈیا اکاونٹس کے خلاف پاکستانی ادارے متعلقہ کمپنیوں سے رابطہ کرتے ہیں، مگر بعض کمپنیوں کے جوابات انتہائی کمزور ہوتے ہیں، اور اس مسئلہ کی روک تھام نہیں کی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر صفدر محمود سے کہا گیا کہ سٹوڈنٹس میگزین / خبرنامہ کے اجراء کے لیے کام کریں، وہ جلد ہی اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے پاکستان یوتھ موومنٹ چھوڑ گئے۔
سوشل میڈیا ریگولیشن کا انتباہ
وزیرمملکت نے کہا کہ 24 جولائی 2025 کو سوشل میڈیا ریگولیشن کا انتباہ جاری کیا تھا، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستان میں اپنے دفاتر کھولنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے ناقابلِ یقین ملک دشمن فیصلے: سعید غنی
جدید ٹیکنالوجی اور دہشتگردی کی روک تھام
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جدید ٹیکنالوجی یعنی اے آئی اور الگورڈمز کا استعمال کرتے ہوئے دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے۔ انہوں نے مخصوص اکاونٹس کی شکایت کی، جو بھارت اور افغانستان سے آپریٹ ہو رہے تھے، اور کمزور جواب کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں فی تولہ سونا 1900 روپے سستا
حکومت کا مطالبہ
وزیرمملکت برائے داخلہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پاکستان میں اپنے دفاتر بنائیں۔ انہوں نے چائلڈ پورنوگرافی کے مواد کو فوری ڈیلیٹ کرنے کی مثال دیتے ہوئے سوال کیا کہ دہشتگردی کے مواد کو کیوں نہیں ہٹایا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صورتحال پر قرارداد متفقہ طور پر منظور
دوہرے معیار کی مخالفت
بیرسٹر عقیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے دوہرے معیار کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر ویڈیوز کو فوری طور پر ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے لیکن دہشتگردی کے معاملات میں ایسا نہیں کیا جاتا۔
برازیل ماڈل کی تجاویز
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے تعاون نہیں کیا تو برازیل ماڈل اختیار کیا جا سکتا ہے، جس میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر جرمانہ عائد ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے آپریشنز کی معطلی بھی شامل ہے۔








