نیویارک اور پیرس میں پی آئی اے کے ہوٹل نجکاری کا حصہ نہیں، مشیر نجکاری
اسلام آباد میں نئے بیانات
اسلام آباد: (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر نجکاری محمد علی نے وضاحت کی ہے کہ نیویارک اور پیرس میں پی آئی اے کے ہوٹل نجکاری کے اقدام کا حصہ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صوبوں کا سائز چھوٹا کیا جائے جہاں ضرورت ہو نئے صوبے بنائے جائیں، سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر انتظامی ماہرین پر مشتمل مستقل قومی کمیشن بنایا جائے۔
پی آئی اے کی بولی کی تفصیلات
جیو نیوز کے پروگرام 'آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ' میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی بولی کی توقع 120 ارب روپے تھی، تاہم جو بولی لگی وہ حکومت اور خریدار دونوں کے لیے بہتر ثابت ہوئی۔ پی آئی اے کی 125 ارب روپے میں فروخت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ احتجاج کے مقدمات میں ملزمان کی عدم حاضری پر عدالت شدید برہم، ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
آپریشنل طیارے اور نجکاری کی کوششیں
مشیر نجکاری نے بتایا کہ پی آئی اے کے 18 طیارے ابھی آپریشنل ہیں اور حکومت کئی سالوں سے قومی ایئرلائن کی فروخت کی کوشش کر رہی تھی۔ کنسورشیم کامیاب ہو چکا ہے اور اب ان کے لیے پارٹنر تلاش کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو ادارے میں ضم کرنے سے معذرت کرلی
نجکاری کے مستقبل کی توقعات
محمد علی کا کہنا تھا کہ لاہور، اسلام آباد اور کراچی کے ایئرپورٹس کو ہم کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کریں گے۔ نجکاری سے متعلق 2026 تک مزید کامیابیاں دیکھیں گے۔ حکومت جس قدر ان اداروں سے کما رہی ہے، نجکاری کے بعد اس سے زیادہ ٹیکس حاصل ہوگا۔
انرجی سیکٹر کی اہمیت
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک انرجی سیکٹر کی نجکاری نہیں ہو گی، چیزیں بہتر نہیں ہو پائیں گی۔ قومی ایئرلائن کی نجکاری پر وہ خاصی مطمئن ہیں کیونکہ یہ اچھی قیمت پر ہوئی ہے۔








