قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کی سماعت میں اہم ریمارکس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں ہوتے، ایسا ہوتا تو جیلیں خالی ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے ملتان کے مشہور کلاک ٹاور کی بحالی کا منصوبہ شروع کردیا
مخالفین کے گھر جانور جلانے کا کیس
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے مخالفین کے گھر جانور جلانے کے ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ کیا واقعی گھر اور جانور جلائے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: بیڈگورننس، آئندہ دنوں میں اہم شخصیت کو منصب سے ہٹایا جائے گا:سینیٹر کا دعویٰ
پولیس کی تفتیش اور شواہد
پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ گھر اور جانور جلائے گئے ہیں، تاہم موقع سے گولیوں کے خول برآمد نہیں ہوئے۔ مدعی مقدمہ کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم ہم سے پلاٹ خریدنا چاہتا ہے، پلاٹ نہ بیچنے پر گھر اور جانور جلائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا: وزیراعظم کا قومی پیغامِ امن کمیٹی سے خطاب
جسٹس ملک شہزاد کا سوال
جسٹس ملک شہزاد احمد نے سوال کیا کہ پولیس کی اعلانیہ غیر اعلانیہ تفتیش کیا کہتی ہے؟ جس پر پولیس اہلکار نے بتایا کہ ملزم نے جرگے میں قرآن پر حلف دیا کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے چین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بڑی خبر آگئی
جیل کی حالت اور قانون
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ اگر فیصلے قرآن پر ہوتے تو جیلیں خالی ہوتیں، قرآن پر فیصلے ہمارے قانون میں نہیں ہیں، پولیس کو اپنے شواہد اکٹھے کرنا ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پہلی مرتبہ اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ، فوری طور پر سائبرکرائم سیل قائم کرنے کا حکم، خصوصی ڈیش بورڈ بھی قائم
شکایت اور ضمانت کی درخواست
پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف پولیس کو کسی نے گواہی بھی نہیں دی، جس پر جسٹس ملک شہزاد احمد نے کہا کہ اپنا گھر اور جانور خود کوئی نہیں جلاتا۔
ملزم کی ضمانت کی درخواست
ملزم امجد علی نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی، ملزم کے خلاف سکرنڈ کے علاقے میں رواں سال مارچ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا.








